“Intoxication clouded the eyes, and sorrow filled the heart; no regret if from burning fervor, the cup and flask were drained.”
آنکھوں پر نشہ چھا گیا ہے اور دل دکھ سے بھر گیا ہے، اب کوئی رنج نہیں اگر گرمی کی شدت سے پیالہ اور صراحی خالی ہو گئے ہیں۔
اس شعر میں نشے اور غم کی ملی جلی کیفیت کا دلکش نقشہ کھینچا گیا ہے، جہاں آنکھیں خمار آلود ہیں اور دل دکھ سے بھرا ہوا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جذبات اور رنج کی اندرونی تپش نے جام و مینا کو اگر خالی بھی کر دیا ہے، تو اس پر کوئی ملال نہیں۔ یہ نقصان پر افسوس کرنے کے بجائے زیست کی تپش اور شدتِ احساس کو خوش دلی سے قبول کرنے کا خوبصورت اظہار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
