“My beloved has still not taken to the pale hue upon my face, though steeped in love for them, I am dyed in color from head to toe.”
اے دوستو! ابھی تک میرا رنگ سنور نہیں سکا، جبکہ میں اُس کے عشق میں سر سے لے کر پاؤں تک مکمل طور پر رنگین ہو چکا ہوں۔
اس شعر میں عاشق اپنی بے لوث محبت اور محبوب کی بے نیازی کا شکوہ بڑے دل نشیں انداز میں کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں تو اس کے عشق میں سر سے پاؤں تک مکمل طور پر رنگ گیا ہوں اور میری پوری ہستی اسی کے رنگ میں ڈھل چکی ہے۔ مگر افسوس کہ میرا یہ رنگ، میری یہ والہانہ کیفیت اب تک محبوب کی نظر میں پسندیدہ اور راس نہ آ سکی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
