جو میں مجلس مری کل وُٹھ گیا وہ سروقد جمعہ قیامت آگئی اور حشر برپا ہو گیا

“When that cypress-tall beloved rose and left my gathering yesterday, it was as if Doomsday had struck, and the final Reckoning held sway.”

— شاہ تراب علی قلندر
معنی

کل جیسے ہی وہ سرو قد محبوب میری محفل سے اٹھ کر گیا، تو گویا قیامت آ گئی اور حشر برپا ہو گیا۔

تشریح

کلاسیکی اردو شاعری میں محبوب کے پروقار اور خوبصورت قد کو سروسہی (سروقد) سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ شاعر نے محبوب کے اٹھنے کو قیامت سے تشبیہ دے کر کمال کا منظر باندھا ہے کہ جیسے ہی وہ محفل سے رخصت ہونے کے لیے اٹھا، عاشق پر گویا حشر ٹوٹ پڑا۔ یہ شعر محبت کی اس نازک کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں محبوب کی ذرا سی جدائی بھی عاشق کے دل کے لیے قیامت سے کم نہیں ہوتی۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.