Sukhan AI
غزل

دلدار کو سلام

دلدار کو سلام
نرماد· Ghazal· 16 shers

یہ غزل محبوب کو ایک پُردَرد سلام ہے، جس میں محبت میں ملے گہرے زخموں اور ٹوٹے ہوئے تعلقات کے درد کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ بیان کرتی ہے کہ کیسے ایک ہم پلہ جوڑی چاہت میں ہار گئی اور ان کا بندھن ٹوٹ گیا، جس سے باہمی کشمکش کا بوجھ رہ گیا۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
(રોલાવૃત્ત) સલામ રે દિલદાર, યારની કબૂલ કરજે;
اے دلدار، اپنے دوست کا یہ سلام قبول کرو۔
2
રાખીશ મા દરકાર, સાર સમજી ઉર ધરજે. ઘણા ઘણા લઈ ઘાવ, તાવથી ખૂબ તવાયાં;
فکر مت کرو؛ اس کا خلاصہ سمجھ کر اپنے دل میں بٹھا لو۔ بہت سے لوگ کئی زخم سہنے کے بعد بخار سے شدید تکلیف میں مبتلا ہوئے ہیں۔
3
નહિ ભોગ પર ભાવ, નાવમાં નીર ભરાયાં. સરખે સરખી જોડ, કોડના બંને માર્યાં;
جب کشتی میں پانی بھر جائے تو دنیاوی لذتوں کی کوئی خواہش نہیں رہتی۔ ایک جیسی جوڑی ہونے کے باوجود، ان دونوں کی عزیز امیدیں ختم ہو گئیں۔
4
છૂટી પડી ગઈ સોડ, હોડમાં બંને હાર્યાં. સખી પરસ્પર બોજ, રોજ સંગાતે રમતાં;
بندھن ٹوٹ گیا، ہوڑ میں دونوں ہار گئے۔ سہیلی، وہ ایک دوسرے کا بوجھ تھے، روز ساتھ کھیلتے تھے۔
5
ગયો ખાલી થઈ હોજ, મોજ શી શીરે જમતા! એક અંગીનાં અંગ, નંગ કુંદન બન્યો છે;
حوض خالی ہو گیا ہے، اب سربراہ پر ضیافت کرنے میں کیا لطف؟ اس محبوب ہستی کا ایک حصہ، وہ نگینہ اب کندن بن گیا ہے۔
6
છાજ્યો નહિરે સંગ, રંગમાં ભંગ થયો છે. ઝૂરે તું કહાં પડી દૂર, ઝૂરતો હું અહીં રોજે;
ہمارا ساتھ راس نہیں آیا، ہم آہنگی ٹوٹ گئی ہے۔ تم کہاں دور پڑی تڑپ رہی ہو؟ میں یہاں روز تڑپ رہا ہوں۔
7
ઊતરી ગયાં છે નૂર, ઉર ફાટે છે સોજે. પરસ્પરે છે પ્રીત, રીત રાખી છે સારી;
نور اتر گیا ہے، دل سوجن کے درد سے پھٹ رہا ہے۔ ان کی آپس میں محبت ہے، اور انہوں نے ایک اچھی رسم قائم رکھی ہے۔
8
ખરેખરાં દુ:ખી નિત, ચીતમાં ચિંતા ભારી. મળવાની શી વાત, રાતની રાહ બહુ પાજી;
ایک شخص سچ مچ ہمیشہ غمگین رہتا ہے، جس کے دل میں بھاری پریشانیاں ہوتی ہیں۔ ملنے کی کیا بات ہے، جب رات کا انتظار اتنا ظالم ہے؟
9
ખાઇ ઠોકર લાત, જાત રિબાયે ઝાઝી. રોયાં કરવું આમ, કામ તેથી શું સરતું?
ٹھوکریں اور لاتیں کھانے سے انسان کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ یوں رونے سے کیا حاصل ہوگا؟
10
(રે) હજીયે બાળે કામ, જામ આઠે શિર ફરતું. લવીએ પ્યારૂં નામ, રામનું નામ લઇએ;
ابھی بھی ہوس جل رہی ہے اور آٹھوں دنیاوی لگاؤ سر پر گھومتے رہتے ہیں۔ ہم پیارے نام لیتے ہیں، لیکن رام کا نام نہیں لیتے۔
11
ઈશ્ક કેફનાં જામ, આમ દૂર કેમ જીરવીએ? પ્રેમતણી ભલી નાવ, આવજાવો કરી તેથી;
عشق کے نشے کے جاموں کو دور سے کیسے برداشت کیا جائے؟ لہٰذا، محبت کی اس اچھی کشتی پر آؤ اور اس پر سفر کریں۔
12
મોટો લીધો લ્હાવ, રાવ નિભાયું બેથી. ચાલ્યું થોડીવાર, માર વિધવિધ બહુ ખાધો;
اے راجا، ایک بڑا فائدہ حاصل ہوا، مگر اسے برقرار نہ رکھا جا سکا۔ یہ تھوڑی دیر ہی چلا اور پھر اسے طرح طرح کی بہت سی چوٹیں برداشت کرنی پڑیں۔
13
ડરી હઠ્યાં લગાર, પ્યાર તસતસ વધુ બાંધ્યો. જીભે રહેલો સ્વાદ, આદ ગળકો જે લાગ્યો;
وہ ذرا بھی نہ ڈرے اور نہ پیچھے ہٹے، بلکہ محبت نے انہیں اور مضبوطی سے باندھ لیا۔ زبان پر جو ذائقہ باقی رہا وہ پہلے تازہ گھونٹ جیسا محسوس ہوا۔
14
આપણને તે યાદ, નાદથી ઝાઝો માગ્યો. મળ્યો માગ્યો તેહ, કેહ શું બાકી રાખી;
ہمیں یاد ہے کہ ایک آواز سے کتنا کچھ مانگا گیا تھا۔ جو چاہا وہ نہیں ملا، اب کہنے کو اور کیا باقی ہے؟
15
ભાગ્યમાં નહિ જેહ, રહે ચાલુ ક્યમ આખી? હવે રહ્યું છે , સ્હેજ જો છૂટવું મોતે;
جو قسمت میں نہیں ہے، وہ کیسے پورا چل سکتا ہے؟ اب بس یہی باقی ہے کہ موت سے تھوڑی رہائی مل جائے۔
16
જો ઊંચે ચિદ તેજ, તેજ સુખ હશે પોતે.
اگر اعلیٰ شعور روشنی ہے، تو وہی روشنی خود مسرت ہوگی۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.