“We recall how much, from a mere sound, was sought. What was desired was not received; for words, we have naught.”
ہمیں یاد ہے کہ ایک آواز سے کتنا کچھ مانگا گیا تھا۔ جو چاہا وہ نہیں ملا، اب کہنے کو اور کیا باقی ہے؟
یہ شعر اس کسک کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جب ہم کسی معمولی چیز، جیسے کہ ایک آواز یا ایک بات، سے بہت کچھ امید کر بیٹھتے ہیں۔ 'ناد سے بہت کچھ مانگا' یہ دکھاتا ہے کہ کیسے ہم چھوٹی سی چیز میں بڑی بڑی امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ لیکن جب ہماری گہری خواہشیں پوری نہیں ہوتیں، تو مایوسی اتنی گہری ہوتی ہے کہ کہنے کو کچھ نہیں بچتا، گویا الفاظ بھی ساتھ چھوڑ گئے ہوں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
