غزل
موئی یہ عشق مین جب تک وہ مہربان نہوا
موئی یہ عشق مین جب تک وہ مہربان نہوا
Source: Kulliyat-e-Momin (old lithograph edition) · HI
نغمہ سنیں
1
मुए ये इश्क़ में जब तक वो मेहरबाँ न हुआ
बला-ए-जाँ है वो दिल जो बला-ए-जाँ न हुआ
موئی یہ عشق مین جب تک وہ مہربان نہوا
بلائی جان ہی وہ دل جو بلای جان نہوا
میں عشق میں تب تک مرتا رہا جب تک وہ محبوب مجھ پر مہربان نہ ہوا؛ وہ دل جان کا روگ ہے جو جان کا روگ نہ بنا۔
2
ख़ुदा की याद दिलाते थे नज़्अ में अहबाब
हज़ार शुक्र कि उस-दम वो बद-गुमाँ न हुआ
خدا کی یاد دلاتی تہی نزع مین احباب
ہزار شکر کہ اسدم وہ بدگمان نہ ہوا
نزع کے وقت احباب مجھے خدا کی یاد دلا رہے تھے؛ ہزار شکر کہ اُس دم وہ مجھ پر بدگمان نہ ہوا۔
3
हँसे ये ग़ैर मुझे बज़्म से उठाने पर
सुबुक है वो कि तेरी तब्अ पर गिराँ न हुआ
ہنسی یہ غیر مجہی بزم سی اوٹھانی پر
سبک ہی وہ کہ تیری طبع پر گران نہ ہوا
جب مجھے تیری محفل سے اٹھا دیا گیا تو میرے رقیب ہنسے؛ وہ شخص کم قدر ہے جو تیری طبیعت پر بوجھ نہ بنا۔
4
दियत में रोज़-ए-जज़ा लेंगे क़ातिल को
हमारा जान की जानी में ही ज़ियाँ न हुआ
دیت مین روز جزا لی ہینگی قاتل کو
ہمارا جان کی جانی مین ہی زیان نہ ہوا
قیامت کے دن ہم خون بہا کے طور پر قاتل کو ہی لے لیں گے؛ اس لیے اپنی جان گنوانے میں ہمارا کوئی نقصان نہ ہوا۔
5
वो आए बहर-ए-अयादत तो था मैं शादी-ए-मर्ग
किसी से चारा-ए-बेदाद-ए-आसमाँ न हुआ
وہ آئی بہر عیادت تو تہا مین شادی مرگ
کسی سی چارہ بیداد اسمان نہوا
جب وہ میری عیادت کو آئے تو میں خوشی کے مارے مرنے کو تھا، کیونکہ آسمان کے اس ظلم کا علاج کسی سے نہ ہو سکا۔
6
वो हाल-ए-ज़ार है मेरा कि गाह ग़ैर से है
तुम्हारे सामने ये माजरा बयाँ न हुआ
وہ حال زار ہی میرا کہ گاہ غیر سی ہے
تمہاری سامنی یہہ ماجرا بیان نہ ہوا
میری حالتِ زار ایسی ہے کہ کبھی کسی غیر کے سامنے تو بیان ہو جاتی ہے، مگر تمہارے سامنے یہ سارا ماجرا کبھی کہا نہ جا سکا۔
7
लगी नहीं है ये चुप लज़्ज़त-ए-सितम से कि मैं
हरीफ़-ए-कश्मकश-ए-नाला-ओ-फ़ुग़ाँ न हुआ
لگی نہیں ہی یہہ چپ لذت ستم سی کہ مین
حریف کشمکش نالہ و فغان نہ ہوا
یہ خاموشی اس لیے نہیں کہ مجھے تیرے ستم میں کوئی لذت ملتی ہے، بلکہ اس لیے کہ میں نالہ و فغاں کی اس طویل کشمکش کا مقابلہ نہ کر سکا۔
8
दम-ए-हिसाब रहा रोज़-ए-हश्र यही है ज़िक्र
हमारे इश्क़ का चर्चा कहाँ कहाँ न हुआ
دم حساب رہا روز حشر یہی ہے ذکر
ہماری عشق کا چرچا کہاں کہاں نہ ہوا
حساب کے وقت، روزِ قیامت بھی یہی ذکر رہا کہ ہمارے عشق کا چرچا کہاں کہاں نہ ہوا۔
9
यही शर्त हम पे इनायत में गो-ब-गो बस्तम
कभी मोहब्बत-ए-दुश्मन का इम्तिहाँ न हुआ
یہی شرط ہم پہ عنایت میں گو بگو بستم
کبھی محبت دشمن کا امتحان نہ ہوا
تمہاری عنایت کی یہی ایک شرط ہم پر تہ بہ تہ بندھی رہی، مگر کبھی دشمن کی محبت کا امتحان نہ ہوا۔
10
उमीद-ए-वादा-ए-दीदार-ए-हश्र पर मोमिन
तू बे-मरा था कि हसरत-कश-ए-बुताँ न हुआ
امید وعدہ دیدار حشر پر مومن
تو بیمرا تھا کہ حسرت کش بتان نہ ہوا
اے مومن، قیامت کے دن دیدار کے وعدے کی امید پر تو بے کار مر گیا، کیونکہ تو نے کبھی بتوں (محبوبوں) کی حسرت اور چاہت نہ پالی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
