وہ آئی بہر عیادت تو تہا مین شادی مرگ — مومن خاں مومن
“They came to visit my sickbed, yet joy was my death's own breath— for none could remedy the cruelty the heavens had decreed.”
معنی
جب وہ میری عیادت کو آئے تو میں خوشی کے مارے مرنے کو تھا، کیونکہ آسمان کے اس ظلم کا علاج کسی سے نہ ہو سکا۔
تشریح
ذرا اس لمحے کی بے رحم ساعت کو دیکھیے — محبوب آخرکار عیادت کو آتا ہے، مگر تب جب شاعر موت کے بستر پر پڑا ہے۔ وہ دیر سے ملنے والی خوشی اتنی تاخیر سے آئی کہ وہی 'شادیِ مرگ' بن گئی، یعنی وہ مسرت جو خوشی ہی سے جان لے لے۔ دوسرے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ آسمان یعنی تقدیر کے اس ظلم کا کوئی چارہ نہ تھا — ملاقات بھی ہوئی تو ایسے وقت جب اس سے فائدہ اٹھانا ممکن نہ رہا۔ یہ کتنی تلخ حقیقت ہے کہ کبھی کبھی خوشیاں اتنی دیر سے آتی ہیں کہ وہ خود ہماری بربادی بن جاتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
