امید وعدہ دیدار حشر پر مومن — مومن خاں مومن
“On the hope of the promised vision at Judgment Day, O Momin, You died in vain—for you never pined with longing for the idols.”
معنی
اے مومن، قیامت کے دن دیدار کے وعدے کی امید پر تو بے کار مر گیا، کیونکہ تو نے کبھی بتوں (محبوبوں) کی حسرت اور چاہت نہ پالی۔
تشریح
مومن یہاں خود پر ایک نرم سا طنز کرتے ہیں کہ تم ساری عمر قیامت کے دن محبوب کے دیدار کے وعدے کی امید میں صبر کرتے رہے اور بغیر کوئی لذت چکھے خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ 'بتاں' یعنی دنیا کے حسین محبوبوں کی طرف کبھی مائل نہ ہوئے، نہ اُن کی تڑپ میں جیے—اور یہی تمہاری نادانی ٹھہری۔ گہری بات یہ ہے کہ عشق کی اصل حلاوت تو اُسی حسرت اور تڑپ میں ہے، اور اِسے کسی دور کے وعدے کے انتظار میں ضائع کر دینا ایک طرح کی ناکامی ہے۔ دیکھیے کہ کس خوبصورتی سے ایمان اور عشق، آخرت کی امید اور دنیاوی حسن ایک ہی مصرعے میں باہم پیوست ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
