یہی شرط ہم پہ عنایت میں گو بگو بستم — مومن خاں مومن
“Even bound layer upon layer in your favour's one condition, never once was the enemy's love put to the test.”
معنی
تمہاری عنایت کی یہی ایک شرط ہم پر تہ بہ تہ بندھی رہی، مگر کبھی دشمن کی محبت کا امتحان نہ ہوا۔
تشریح
اس شعر میں ایک عجیب سا گلہ ہے — محبوب کی عنایت بھی ایک شرط میں بندھی ہوئی ہے، تہہ در تہہ لپٹی ہوئی، جیسے کوئی تحفہ گرہوں میں جکڑا ہو۔ شاعر کہتا ہے کہ انہی مشروط مہربانیوں میں الجھے رہے، اور کبھی وہ موقع ہی نہ آیا کہ دشمن کی محبت کا امتحان لیا جائے — ایک خاموش طنز کہ اپنوں کی شرطوں والی محبت ہمیں کبھی غیروں کے چھپے خلوص کو پہچاننے ہی نہیں دیتی۔ گویا شرط کے ساتھ ملنے والی عنایت خود ایک قید بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
