غزل

بی سبب کیونکر لب زخم پر افغان ہوگا

بی سبب کیونکر لب زخم پر افغان ہوگا
مومن خاں مومن· Ghazal· 10 shers

Source: Kulliyat-e-Momin (old lithograph edition) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
बे-सबब क्यूँकर लब-ए-ज़ख़्म पर अफ़ग़ान होगा शोर-ए-महशर से भरा उसका नमकदान होगा
بی سبب کیونکر لب زخم پر افغان ہوگا شور محشر سی بھرا اوسکا نمکدان ہوگا
بغیر کسی سبب کے زخم کا کنارہ کیسے چیخ اٹھے گا؛ اس کا نمکدان تو قیامت کے شور سے بھرا ہوا ہوگا۔
2
आख़िर उम्मीद ही से चारा-ए-हिर्मान होगा मर्ग की आस पे जीना शब-ए-हिजरान होगा
آخر امید ہی سی چارہ حرمان ہوگا مرگ کی آس پہ جینا شب ہجران ہوگا
آخرکار امید ہی سے محرومی کا علاج ہوگا؛ موت کی آس پر جینا ہی جدائی کی رات کاٹنا ہوگا۔
3
मजमा-ए-बस्ता-ए-महमिल शब-ए-अनम याद आया ताले-ए-ख़ुफ़्ता का क्या ख़्वाब-ए-परेशाँ होगा
مجمع بستہ محمل شب عنم یاد آیا طالع خفتہ کا کیا خواب پریشان ہوگا
مجھے بندھی ہوئی محمل کا مجمع اور پڑاؤ کی وہ رات یاد آ گئی؛ بھلا سوئے ہوئے نصیب کا خواب کتنا پریشان ہوگا۔
4
दिल में शौक़-ए-रुख़-ए-रौशन न छुपेगा हरगिज़ माह पर्दे में कतान के कोई पिन्हाँ होगा
دل میں شوق رخ روشن نہ چھپی گا ہرگز ماہ پردی میں کتانکی کوئی پنہان ہوگا
اُس روشن چہرے کو دیکھنے کی چاہت دل میں ہرگز نہیں چھپ سکتی—بھلا چاند کبھی باریک کپڑے کے پردے میں پنہاں رہ سکتا ہے؟
5
दर्द है जान के एवज़ हर रग-ओ-पै में सारी चारागर हम नहीं होने के जो दरमान होगा
درد ہی جانکی عوض ہر رگ و پی میں ساری چارہ گر ہم نہیں ہونیکی جو درمان ہوگا
ہر رگ و پے میں جان کے بدلے صرف درد بسا ہوا ہے؛ اے چارہ گر، ہم ایسے ہیں کہ اب کوئی دوا یا علاج ہمیں ٹھیک نہیں کر سکتا۔
6
शोमी-ए-बख़्त तू ही छीन ले मेरी हशत-ए-दिल देख ज़िन्दान है कोई न मैं बियाबान होगा
شومی بخت تو ہی چھین لی میری حشت دل دیکہہ زندان ہی کوئی نہ میں بیابان ہوگا
اے بدبختی، تُو ہی میرے دل کا خوف چھین لے؛ دیکھ، یہاں کوئی زندان نہیں، ورنہ میں ایک بیابان بن جاتا۔
7
निस्बत-ए-ऐश से हूँ नज़ा में गिर्यां यानी है यह रोना कि दहन गोर का ख़न्दान होगा
نسبت عیش سی ہوں نزع میں گریان یعنی ہی یہہ رونا کہ دہن گور کا خندان ہوگا
عیش و مسرت کی نسبت سے میں نزع کی حالت میں رو رہا ہوں، یعنی یہ رونا ایسا ہے کہ قبر کا منہ ہنس پڑے گا۔
8
बात करने में रक़ीबों की ही टूट गया दिल भी शायद उसी बद-अहद का पैमान होगा
بات کرنی میں رقیبوں کی ہی ٹوٹ گیا دل بہی شاید اوسی بدعہد کا پیمان ہوگا
رقیبوں کی باتیں کرتے کرتے ہی یہ ٹوٹ گیا؛ شاید میرا دل بھی اُسی بدعہد کا کوئی عہد و پیمان تھا۔
9
चारा-जू और भी चारागरी गा नगरी पर्दा-ए-शोख़ जो पैवन्द-ए-गरेबान होगा
چارہ جو اور بہی چارہ گری گا نگری پردۂ شوخ جو پیوند گریبان ہوگا
چارہ ساز اور بھی علاج تلاش کرے گا، اے زخموں کی نگری، جب شوخی کا پردہ پھٹے ہوئے گریبان کا پیوند بن جائے گا۔
10
दोस्ती उस सनम-ए-आफ़त-ए-ईमान से करे मोमिन अब भी कोई दुश्मन-ए-ईमान होगा
دوستی وس صنم آفت ایمان سی کری مومن اب بہی کوئی دشمن ایمان ہوگا
کیا کوئی مومن اب بھی اُس بت سے دوستی کرے گا جو ایمان کے لیے آفت ہے؟ ایسا تو صرف ایمان کا دشمن ہی کرے گا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.