مجمع بستہ محمل شب عنم یاد آیا — مومن خاں مومن
“The gathered caravan, bound for the night of pilgrimage, came to my mind— how troubled must the dream be of a slumbering, sleeping fortune?”
معنی
مجھے بندھی ہوئی محمل کا مجمع اور پڑاؤ کی وہ رات یاد آ گئی؛ بھلا سوئے ہوئے نصیب کا خواب کتنا پریشان ہوگا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر ایک قافلے کا منظر کھینچتے ہیں جو مقدسہ یاترا کی رات کے لیے تیار ہو کر جمع ہو رہا ہے — اونٹوں پر بندھے محمل، ہلچل اور اُس رات کی اُمیدیں۔ پھر اچانک خیال آتا ہے کہ جس کی قسمت ہی سوئی ہوئی ہو، اُس کا خواب کتنا پریشان اور الجھا ہوا ہوگا! یہاں 'سوتا ہوا نصیب' بدقسمتی کا لطیف اشارہ ہے — جب تقدیر ہی بیدار نہ ہو تو سفر کی ساری تیاری اور رونق بھی ایک بے چین خواب کی مانند لگنے لگتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
