چارہ جو اور بہی چارہ گری گا نگری — مومن خاں مومن
“The healer will seek still more remedies, O city of wounds, When the veil of mischief becomes a patch stitched to the collar's torn seam.”
معنی
چارہ ساز اور بھی علاج تلاش کرے گا، اے زخموں کی نگری، جب شوخی کا پردہ پھٹے ہوئے گریبان کا پیوند بن جائے گا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر زخم اور علاج کے لازوال رشتے کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ چاک گریبان — جو عاشق کی دیوانگی کی نشانی ہے — جب سِل کر پیوند بن جاتا ہے تو چارہ گر اور بھی نئے نسخے ڈھونڈنے لگتا ہے۔ گہری بات یہ ہے کہ دیوانے کے زخم کبھی پورے نہیں بھرتے — ہر مرہم کے بعد کوئی نیا گھاؤ کھل جاتا ہے، اور علاج کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
