دوستی وس صنم آفت ایمان سی کری — مومن خاں مومن
“Would a believer still befriend that idol, that calamity of faith? Surely only an enemy of faith would do such a thing.”
معنی
کیا کوئی مومن اب بھی اُس بت سے دوستی کرے گا جو ایمان کے لیے آفت ہے؟ ایسا تو صرف ایمان کا دشمن ہی کرے گا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر محبوب کو 'صنم آفتِ ایمان' کہتا ہے، یعنی ایسا بُت جو ایمان کے لیے مصیبت بن جائے۔ محبوب کا حسن اتنا جان لیوا ہے کہ اُس سے محبت ایمان کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ شاعر طنز کے لہجے میں پوچھتا ہے کہ کوئی سچا مومن بھلا ایسے بُت سے دوستی کیوں کرے گا — ایسا تو وہی کرے گا جو خود اپنے ایمان کا دشمن ہو۔ یہاں عشق اور مذہب کے درمیان وہ قدیم کشمکش بڑی نزاکت سے کھلتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
