درد ہی جانکی عوض ہر رگ و پی میں ساری — مومن خاں مومن

درد ہی جانکی عوض ہر رگ و پی میں ساری چارہ گر ہم نہیں ہونیکی جو درمان ہوگا

“In every vein and sinew pain lives in place of life itself; O healer, we are past all cure, whatever remedy may come.”

— مومن خاں مومن

معنی

ہر رگ و پے میں جان کے بدلے صرف درد بسا ہوا ہے؛ اے چارہ گر، ہم ایسے ہیں کہ اب کوئی دوا یا علاج ہمیں ٹھیک نہیں کر سکتا۔

تشریح

شاعر کہتا ہے کہ اب میری ہر رگ اور ہر پٹھے میں زندگی کی جگہ صرف درد بس گیا ہے، گویا درد ہی میری جان بن چکا ہے۔ وہ چارہ گر سے کہتا ہے کہ اب مجھ پر کوئی دوا کارگر نہیں، کیونکہ جو بھی علاج ہوگا وہ بھی اسی درد کی صورت اختیار کر لے گا۔ یہ عشق کی اُس کیفیت کا بیان ہے جہاں تکلیف اتنی گہری ہو جائے کہ وہی زندگی بن جائے اور شفا کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.