آخر امید ہی سی چارہ حرمان ہوگا — مومن خاں مومن

آخر امید ہی سی چارہ حرمان ہوگا مرگ کی آس پہ جینا شب ہجران ہوگا

“In the end, it is hope alone that heals the wound of all despair; To live upon the promise of death—such is the night of parting's bare.”

— مومن خاں مومن

معنی

آخرکار امید ہی سے محرومی کا علاج ہوگا؛ موت کی آس پر جینا ہی جدائی کی رات کاٹنا ہوگا۔

تشریح

اس شعر میں ایک تلخ سا تضاد چھپا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آخرکار ناامیدی کا علاج بھی امید ہی سے ہوگا—جب کچھ باقی نہیں رہتا تو آس ہی مرہم بن جاتی ہے۔ مگر دوسرے مصرعے میں وہ بتاتا ہے کہ جدائی کی یہ رات اتنی طویل اور جاں گسل ہے کہ انسان موت کی آس پر جی رہا ہے، یعنی جینے کا سہارا مرنے کی امید بن گیا ہے۔ یہ درد کی وہ انتہا ہے جہاں راحت بھی موت ہی میں دکھائی دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.