بات کرنی میں رقیبوں کی ہی ٹوٹ گیا — مومن خاں مومن

بات کرنی میں رقیبوں کی ہی ٹوٹ گیا دل بہی شاید اوسی بدعہد کا پیمان ہوگا

“It broke while speaking of my rivals, nothing more— perhaps my heart, too, was that oath-breaker's pledge.”

— مومن خاں مومن

معنی

رقیبوں کی باتیں کرتے کرتے ہی یہ ٹوٹ گیا؛ شاید میرا دل بھی اُسی بدعہد کا کوئی عہد و پیمان تھا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر ایک نازک اور تلخ بات کہتے ہیں کہ ان کا دل محض رقیبوں کا ذکر کرتے ہوئے ہی ٹوٹ گیا، گویا یہ ذکر بھی اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ پھر ایک گہرا خیال آتا ہے کہ شاید دل بھی اسی بدعہد محبوب کا کوئی پیمان تھا، جو ہر وعدے کی طرح آخرکار ٹوٹ ہی گیا۔ دل کو 'پیمان' یعنی قسم یا عہد سے جوڑنا نہایت خوبصورت ہے — جیسے محبوب کے سارے وعدے ٹوٹتے ہیں، ویسے ہی دل بھی اس کی بے وفائی کی فطرت کا شکار ہو گیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.