بی سبب کیونکر لب زخم پر افغان ہوگا — مومن خاں مومن
“Without a cause, how could the wound's lip ever cry aloud in pain— its salt-cellar must be brimming with the clamor of Judgment Day.”
معنی
بغیر کسی سبب کے زخم کا کنارہ کیسے چیخ اٹھے گا؛ اس کا نمکدان تو قیامت کے شور سے بھرا ہوا ہوگا۔
تشریح
ذرا تصور کیجیے—زخم کا کنارہ ہونٹوں کی طرح کھلا ہوا ہے، اور ہونٹ بے سبب تو نہیں چیختے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر یہ زخم فریاد کر رہا ہے تو ضرور کوئی وجہ ہے، گویا اُس کے نمکدان میں قیامت کے دن کا سارا شور بھرا ہو۔ نمک اور زخم کا پرانا رشتہ یہاں کمال سے کھلتا ہے: نمک کی جلن اور اُس سے اٹھتا شور محشر کی چیخ پکار بن جاتا ہے، اور یوں جسمانی درد ایک لازوال، ناقابلِ علاج غم کی خوبصورت تصویر بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
