شومی بخت تو ہی چھین لی میری حشت دل — مومن خاں مومن

شومی بخت تو ہی چھین لی میری حشت دل دیکہہ زندان ہی کوئی نہ میں بیابان ہوگا

“O ill-fortune, you alone, snatch away the terror of my heart; See—there is no prison here, else I would become a wilderness.”

— مومن خاں مومن

معنی

اے بدبختی، تُو ہی میرے دل کا خوف چھین لے؛ دیکھ، یہاں کوئی زندان نہیں، ورنہ میں ایک بیابان بن جاتا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنی بدقسمتی ہی سے التجا کرتا ہے کہ وہی اُس کے دل کی دہشت چھین لے۔ گہری بات یہ ہے کہ جب تک قید کا احساس، ایک گھیرا باقی ہے، تب تک انسان سنبھلا ہوا ہے؛ مگر اگر یہ بندھن ٹوٹ جائے تو دل ویران بیابان کی طرح بے کنار اور کھو جانے والا ہو جائے گا۔ زنداں اور بیابان کا تضاد بتاتا ہے کہ کبھی کبھی دکھ کی چاردیواری ہی ہمیں بکھرنے سے بچائے رکھتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.