غزل

اگ اشک گرم کو لگی جی کیا ہی جل گیا

اگ اشک گرم کو لگی جی کیا ہی جل گیا
مومن خاں مومن· Ghazal· 10 shers

Source: Kulliyat-e-Momin (old lithograph edition) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
आग अश्क-ए-गर्म को लगी जी क्या ही जल गया आँसू जो उसे पोंछे शब और हाथ फिसल गया
اگ اشک گرم کو لگی جی کیا ہی جل گیا آنسو جو اوسی پونچھی شب اور ہاتھ پسل گیا
گرم آنسوؤں کو آگ لگ گئی اور دل خوب جل گیا؛ رات کو جب اُن آنسوؤں کو پونچھنا چاہا تو ہاتھ پھسل گیا۔
2
फोड़ा था दिल न था यह सू-ए-पुर-ख़लल गया जब नहीं साँस की लगी दम ही निकल गया
پھوڑا تھا دل نہ تہا یہہ سوئی پر خلل گیا جب نہیں سانس کی لگی دم ہی نکل گیا
یہ دل نہ تھا بلکہ ایک پھوڑا تھا جو خرابی اور عیب سے بھرا ہوا تھا؛ جب سانس نے ساتھ نہ دیا تو دم ہی نکل گیا اور جان چلی گئی۔
3
क्या रोऊँ ख़ीरा-चश्मी-ए-बख़्त-ए-सियाह को वहाँ शुग़्ल-ए-सुरमा ही यही इन नील डल गया
کیا روؤن خیرہ چشمی بخت سیاہ کو وہان شغل سرمہ ہی یہی ان نیل ڈل گیا
میں اپنے سیاہ بخت کی ڈھیٹ اندھی قسمت پر کیا روؤں، جہاں سرمہ لگانے کا شغل ہی ان نیلے نشانوں کی صورت میں پڑ گیا۔
4
की मुझको माथा मलने की तालीम वरना क्यों ग़ैरों को आगे बज़्म में वह इत्र मल गया
کی مجکو ماتہہ ملنی کی تعلیم ورنہ کیون غیرون کو آگی بزم مین وہ عطر مل گیا
کیا مجھے ماتھا ملنے کی تعلیم دینے کے لیے، ورنہ اُس نے محفل میں سب کے سامنے وہ عطر میرے رقیبوں کو کیوں مل دیا۔
5
उस कूचा की हवा थी कि मेरी ही आह थे कोई तो दिल की आग की पंखा सा झल गया
اوس کوچہ کی ہوا تہی کہ میری ہی آہ تہے کوئی تو دلکی آگ کی پنکہا سا جہل گیا
کیا وہ اُس کوچے کی ہوا تھی یا میری ہی آہیں تھیں؛ کسی نے پنکھے کی طرح میرے دل کی آگ کو ہوا دے کر بھڑکا دیا۔
6
ज्यों ख़ुफ़्तगान-ए-ख़ाक ही अपनी उफ़्तादगी आया जो ज़लज़ला कहिए करवट बदल गया
جون خفتگان خاک ہی اپنی فتادگی آیا جو زلزلہ کہیے کروٹ بدل گیا
جیسے خاک میں سوئے ہوئے لوگ اپنی گری ہوئی حالت میں پڑے رہتے ہیں، جب زلزلہ آیا تو کہہ لیجیے کہ وہ بس کروٹ بدل گئے۔
7
उस नक़्श-ए-पा की सजदा ने क्या क्या किया ज़लील मैं गोचा-ए-रक़ीब में ही सर के बल गया
اوس نقش پا کی سجدہ نی کیا کیا کیا ذلیل مین گوچہ رقیب مین ہی سر کی بل گیا
اُس نقشِ پا کو سجدہ کرنے نے مجھے کتنا ذلیل کیا؛ میں اپنے رقیب ہی کے گوشے میں سر کے بل جا گرا۔
8
कुछ जी गिरा पड़ी था पर अब तो ने नाज़ से मुझको गिरा दिया तो मेरा जी सँभल गया
کچھ جی گرا پڑی تہا پر اب تو نی ناز سے مجکو گرا دیا تو میرا جی سنہل گیا
میرا دل کچھ گرا پڑا سا تھا، مگر اب جب تُو نے ناز سے مجھے گرا دیا تو میرا دل سنبھل گیا۔
9
मिल जाए गर यह ख़ाक में उसने मान की ख़ाक गुल की थी क्यों कि पाँव वह नाज़ुक फिसल गया
ملجائی گر یہہ خاک مین اسنی مان کی خاک گل کی تہی کیون کہ پاون وہ نازک پسل گیا
اگر اُس کے غرور کی خاک اِس مٹی میں مل جائے، تو پھر وہ نازک پاؤں پھول پر کیوں پھسل گیا؟
10
तजा न से न काबा की तकलीफ़ दी मुझे मोमिन बस अबआफ़ कि यहाँ जी बहल गया
تجا نہ سی نہ کعبہ کی تکلیف دی مجھی مومن بس ابعاف کہ یہان جی بہل گیا
نہ تو انہوں نے مجھے چھوڑا اور نہ کعبہ کی تکلیف دی—بس، اے مومن، اب شکایت چھوڑ دو کہ یہیں میرا دل بہل گیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.