اوس نقش پا کی سجدہ نی کیا کیا کیا ذلیل — مومن خاں مومن
“How that footprint's prostration brought me low and disgraced, Into my rival's very corner, head-first, I fell down low.”
معنی
اُس نقشِ پا کو سجدہ کرنے نے مجھے کتنا ذلیل کیا؛ میں اپنے رقیب ہی کے گوشے میں سر کے بل جا گرا۔
تشریح
ذرا تصور کیجیے کہ عاشق اپنے محبوب کے نقشِ پا کو اس قدر عقیدت سے سجدہ کرتا ہے کہ جھکتے جھکتے اس کا سر اسی کوچے میں جا گرتا ہے جہاں اس کا رقیب موجود ہے۔ اس شعر میں سجدہ محبت کی انتہا بھی ہے اور رسوائی کا سبب بھی — یہی جھکنا اسے ذلیل کر دیتا ہے کیونکہ اس کا سر رقیب کے کوچے میں جا پڑتا ہے۔ یہاں عشق کی دیوانگی اور بے بسی کا کتنا حسین مگر درد بھرا منظر کھنچتا ہے، جہاں محبت میں جھکنا عزت نہیں بلکہ بے عزتی کا باعث بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
