تجا نہ سی نہ کعبہ کی تکلیف دی مجھی — مومن خاں مومن
“Neither did they forsake me, nor impose the Kaaba's toil on me— Enough, O Momin, cease your plaints; here my heart has found its ease.”
معنی
نہ تو انہوں نے مجھے چھوڑا اور نہ کعبہ کی تکلیف دی—بس، اے مومن، اب شکایت چھوڑ دو کہ یہیں میرا دل بہل گیا۔
تشریح
اس شعر میں ایک میٹھا سا اطمینان چھپا ہے — نہ کسی نے مجھے چھوڑا، نہ کعبہ کے دشوار سفر کا بوجھ مجھ پر ڈالا۔ شاعر کہتا ہے کہ اب کہیں اور جانے کی ضرورت ہی نہیں، کیونکہ یہیں، اسی جگہ، دل کو سکون مل گیا۔ مومن سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اب شکوے بند کرو؛ اصل راحت دور کے سفر میں نہیں بلکہ اسی ٹھہراؤ اور قناعت میں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
