جون خفتگان خاک ہی اپنی فتادگی — مومن خاں مومن
“Like those who sleep within the dust, lost in their fallen state, When the earthquake came, you might say, they merely turned their side.”
معنی
جیسے خاک میں سوئے ہوئے لوگ اپنی گری ہوئی حالت میں پڑے رہتے ہیں، جب زلزلہ آیا تو کہہ لیجیے کہ وہ بس کروٹ بدل گئے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر مٹی میں سوئے ہوئے مُردوں کا تصور کرتا ہے جو اپنی گری ہوئی، بے بس حالت میں پڑے ہیں۔ جب زلزلہ آیا تو گویا وہ بس کروٹ بدل گئے — اتنی گہری بے نیازی اور تھکن ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ہلچل بھی اُنہیں محض نیند کی ایک کروٹ محسوس ہوتی ہے۔ یہ موت کی لاتعلقی اور انسانی زندگی کی فنا پر ایک گہرا اور دل کو چھو لینے والا تبصرہ ہے، جہاں خاک میں سوئے لوگ اب کسی ہلچل سے متاثر نہیں ہوتے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
