کیا روؤن خیرہ چشمی بخت سیاہ کو — مومن خاں مومن
“How shall I mourn the brazen blindness of my blackened fate— there, the pastime of the kohl itself has left these bruises blue.”
معنی
میں اپنے سیاہ بخت کی ڈھیٹ اندھی قسمت پر کیا روؤں، جہاں سرمہ لگانے کا شغل ہی ان نیلے نشانوں کی صورت میں پڑ گیا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر اپنے سیاہ نصیب کی بے شرم اندھے پن پر ماتم کرتا ہے — وہ قسمت جو اتنی تاریک ہے کہ اس کا دکھ بھی نہیں دیکھ پاتی۔ خوبصورت ستم یہ ہے کہ سرمہ، جو آنکھوں کو سنوارنے کے لیے لگایا جاتا ہے، یہاں نیلے نشانوں میں بدل گیا ہے؛ جو چیز حسن بڑھانے والی تھی وہی چوٹ دے گئی۔ یہ قسمت کی اس تلخ ستم ظریفی کو ظاہر کرتا ہے جہاں زیبائش بھی زخم بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
