غزل

यकसू कुशादा-रवी पर चीं नहीं जबीं भी

यकसू कुशादा-रवी पर चीं नहीं जबीं भी
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل جدائی اور یادوں کے درد کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کی یادوں میں کھویا ہوا ہے، اور یہ کہتا ہے کہ اب اس کے لیے کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ اس میں محبت کے گہرے دکھ اور تنہائی کا احساس جھلکتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
यकसू कुशादा-रवी पर चीं नहीं जबीं भी हम छोड़ी महर उस की काश उस को होवे कीं भी
یکسو کشادہ روئی پر چیں نہیں جبیں بھی ہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی
جب کُشا کا پھول، سورج اور چاند میرے دل میں نہیں، تو کاش میں نے اپنے محبوب کا پیار ان کے لیے چھوڑ دیا ہوتا۔
2
आँसू तो तेरे दामन पोंछे है वक़्त गिर्या हम ने न रखी मुँह पर ऐ अब्र-ए-आस्तीं भी
آنسو تو تیرے دامن پونچھے ہے وقت گریہ ہم نے نہ رکھی منہ پر اے ابر آستیں بھی
وقت نے تو تیرے دامن پونچھ دیے ہیں اور تیری آستین کا بادل بھی چلا گیا ہے، مگر میں نے اپنے چہرے پر دکھاوے کا کوئی رنگ نہیں لگایا۔
3
करता नहीं अबस तो पारा गुलो-फ़ुग़ाँ से गुज़रे है पार दिल के इक नाला-ए-हज़ीं भी
کرتا نہیں عبث تو پارہ گلو فغاں سے گزرے ہے پار دل کے اک نالۂ حزیں بھی
اگر کوئی ابس تو پارہ گلو-فُغاں سے گزرے ہے پار دل کے اک نالہِ حزین بھی۔
4
हूँ एहतिज़ार में मैं आईना-रू शिताब आ जाता है वर्ना ग़ाफ़िल फिर दम तो वापसीं भी
ہوں اہتزار میں میں آئینہ رو شتاب آ جاتا ہے ورنہ غافل پھر دم تو واپسیں بھی
میں تمہارے انتظار میں آئینہ جیسی ٹھنڈک ہوں؛ اگر تم نہ آؤ تو میرا جانا بھی غافل ہوگا۔
5
सीने से तीर उस का जी को तो लेता निकला पर साथों साथ उस के निकली इक आफ़रीं भी
سینے سے تیر اس کا جی کو تو لیتا نکلا پر ساتھوں ساتھ اس کے نکلی اک آفریں بھی
سینے سے تیر نے اس کی جان کو تو کھینچا، مگر ساتھ ہی اس کے غم کی ایک آہ بھی نکلی۔
6
हर शब तिरी गली में आलम की जान जा है आगे हवा है अब तक ऐसा सितम कहीं भी
ہر شب تری گلی میں عالم کی جان جا ہے آگے ہوا ہے اب تک ایسا ستم کہیں بھی
ہر شب تیری گلی میں عالم کی جان جا ہے؛ آگے ہوا ہے اب تک ایسا ستم کہیں بھی۔
7
शोख़ी-ए-जल्वा उस की तस्कीन क्यूँके बख़्शे आईनों में दिलों के जो है भी फिर नहीं भी
شوخی جلوہ اس کی تسکین کیونکے بخشے آئینوں میں دلوں کے جو ہے بھی پھر نہیں بھی
شاخے-جلوے اس کی تسکین کیوں کے بخشے؟ / آینوں میں دلوں کے جو ہیں بھی، پھر نہیں بھی۔
8
गेसू ही कुछ नहीं है सुम्बुल की आफ़त उस का हैं बर्क़ ख़िर्मन-ए-गुल रुख़्सार-ए-आतिशीं भी
گیسو ہی کچھ نہیں ہے سنبل کی آفت اس کا ہیں برق خرمن گل رخسار آتشیں بھی
شایر کہتا ہے کہ بالوں کا مقابلہ اس ٹیلے کی آفت سے نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ چہرے کی رونق اور آتشین گال بھی اس سے زیادہ ہیں۔
9
तकलीफ़-ए-नाला मत कर ऐ दर्द दिल कि होंगे रंजीदा राह चलते आज़ुर्दा हम-नशीं भी
تکلیف نالہ مت کر اے درد دل کہ ہوں گے رنجیدہ راہ چلتے آزردہ ہم نشیں بھی
तकلیفِ نالہ مت کر اے درد دل کہ ہوں گے، رنجیدہ راہ چلتے آجوردا ہمنشین بھی
10
किस किस का दाग़ देखें यारब ग़म-ए-बुताँ में रुख़्सत तलब है जाँ भी ईमान और दीं भी
کس کس کا داغ دیکھیں یا رب غم بتاں میں رخصت طلب ہے جاں بھی ایمان اور دیں بھی
یارب! کس کس کا داغ دیکھیں غمِ بُتاں میں؟ رخصت طلب ہے جان بھی، ایمان اور دین بھی۔
11
ज़ेर-ए-फ़लक जहाँ टक आसूदा 'मीर' होते ऐसा नज़र न आया इक क़ता-ए-ज़मीं भी
زیر فلک جہاں ٹک آسودہ میرؔ ہوتے ایسا نظر نہ آیا اک قطعۂ زمیں بھی
آسمان کے وسعت میں، جہاں میری آنکھیں بے قرار ہیں، میر نے زمین کی سطح کا ایسا نظارہ کبھی نہیں دیکھا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.