سینے سے تیر اس کا جی کو تو لیتا نکلا — میر تقی میر
سینے سے تیر اس کا جی کو تو لیتا نکلا
پر ساتھوں ساتھ اس کے نکلی اک آفریں بھی
“Though the arrow drew its life from his chest, It also released a breath of sorrow's test.”
— میر تقی میر
معنی
سینے سے تیر نے اس کی جان کو تو کھینچا، مگر ساتھ ہی اس کے غم کی ایک آہ بھی نکلی۔
تشریح
یہ شعر دکھ اور حسن کے تعلق کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب دل پر زخم لگ رہا ہے، تو اس زخم کے ساتھ ایک 'آفریٰن' بھی نکل رہی ہے۔ یعنی ہر درد کے ساتھ کوئی نہ کوئی خوبصورتی یا رحمت بھی شامل ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
