غزل

वाँ वो तो घर से अपने पी कर शराब निकला

वाँ वो तो घर से अपने पी कर शराब निकला
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل زندگی میں وہم اور حقیقت کے درمیان فرق کو بیان کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جو چیزیں ہمیں حقیقت لگتی ہیں، وہ اکثر صرف خواب یا دکھاوا ہوتی ہیں۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
वाँ वो तो घर से अपने पी कर शराब निकला याँ शर्म से अरक़ में डूब आफ़्ताब निकला
واں وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا یاں شرم سے عرق میں ڈوب آفتاب نکلا
وہ تو گھر سے اپنے پی کر شراب نکلا، یاں شرم سے عرق میں ڈوب آفتاب نکلا۔
2
आया जो वाक़िए में दरपेश आलम-ए-मर्ग ये जागना हमारा देखा तो ख़्वाब निकला
آیا جو واقعے میں درپیش عالم مرگ یہ جاگنا ہمارا دیکھا تو خواب نکلا
جب حقیقتِ مریشمِ موت کے دروازے پر آئی، تو ہمارا جاگنا دیکھ کر یہ خواب نکلا۔
3
देखा जो ओस पड़ते गुलशन में हम तो आख़िर गुल का वो रू-ए-ख़ंदाँ चश्म-ए-पुर-आब निकला
دیکھا جو اوس پڑتے گلشن میں ہم تو آخر گل کا وہ روئے خنداں چشم پر آب نکلا
گُلشن میں اوس پڑتے ہوئے دیکھ کر، ہمیں آخر کار گل کے وہ روئے خندان چشمِ پر آب نکلا۔
4
पर्दे ही में चला जा ख़ुर्शीद तो है बेहतर इक हश्र है जो घर से वो बे-हिजाब निकला
پردے ہی میں چلا جا خورشید تو ہے بہتر اک حشر ہے جو گھر سے وہ بے حجاب نکلا
پردے میں ہی رہنا خورشید بہتر ہے، کیونکہ ایک حشر اس شخص کا ہے جو گھر سے بے حجاب نکلتا ہے۔
5
कुछ देर ही लगी न दिल को तो तीर लगते उस सैद-ए-नातवाँ का क्या जी शिताब निकला
کچھ دیر ہی لگی نہ دل کو تو تیر لگتے اس صید ناتواں کا کیا جی شتاب نکلا
دل کو تیر لگنے کا احساس تو بس کچھ دیر کا تھا، مگر اس پیارے 'सैद-ए-नातवाँ' کے لیے دل میں کیا چاہت جاگی، اے شتاب۔
6
हर हर्फ़-ए-ग़म ने मेरे मज्लिस के तईं रुलाया गोया ग़ुबार दिल का पढ़ता किताब निकला
ہر حرف غم نے میرے مجلس کے تئیں رلایا گویا غبار دل کا پڑھتا کتاب نکلا
ہر حرف غم نے میرے مجلس کو آنسو سے نہلا دیا، گویا دل کی دھول ایک کتاب ثابت ہو گئی۔
7
रू-ए-अरक़-फ़िशाँ को बस पोंछ गर्म मत हो उस गुल में क्या रहेगा जिस का गुलाब निकला
روئے عرق فشاں کو بس پونچھ گرم مت ہو اس گل میں کیا رہے گا جس کا گلاب نکلا
رُ-ے-عرق-فِشان کو بس پونچھ گرم مت ہو، اُس گل میں کیا رہے گا جس کا گلاب نکلا۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی چیز کے نچوڑ یا اصل خصلت کو گرم ہاتھوں سے خراب نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ جب وہ اپنی بہترین حالت میں آ چکی ہو تو اس کا کیا باقی رہنا گا۔
8
मुतलक़ न ए'तिना की अहवाल पर हमारे नामे का नामे ही में सब पेच-ओ-ताब निकला
مطلق نہ اعتنا کی احوال پر ہمارے نامے کا نامے ہی میں سب پیچ و تاب نکلا
اِتنا کی حالت پر، ہم نے پایا کہ صرف ہمارے نام کا ذکر ہی سب کے معاملات میں الجھ گیا ہے۔
9
शान-ए-तग़ाफ़ुल अपने नौ-ख़त की क्या लिखें हम क़ासिद मुआ तब उस के मुँह से जवाब निकला
شان تغافل اپنے نو خط کی کیا لکھیں ہم قاصد موا تب اس کے منہ سے جواب نکلا
شان-ए-तग़ाफ़ुल अपने नौ-ख़त की क्या लिखें हम, क़ासिद मुआ तब उस के मुँह से जवाब निकला। اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اپنے نو-ख़त (نظم) میں شان-ए-तغافل (بے پرواہی کی عظمت) کے بارے میں کیا لکھنا، جب قاصد معاٰ کے منہ سے جواب نکل آیا۔
10
किस की निगह की गर्दिश थी 'मीर' रू-ब-मस्जिद मेहराब में से ज़ाहिद मस्त-ओ-ख़राब निकला
کس کی نگہ کی گردش تھی میرؔ رو بہ مسجد محراب میں سے زاہد مست و خراب نکلا
شعر میں یہ سوال کیا گیا ہے کہ مسجد کے محراب سے باہر نکلے ہوئے دیوانہ وار، نشے میں مست ایک زاہد (संत) किस کی نگاہوں کی گردش تھی جو اسے دیکھ رہی تھی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.