غزل

रफ़्तगाँ में जहाँ के हम भी हैं

रफ़्तगाँ में जहाँ के हम भी हैं
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل خود کی پہچان اور مشترکہ وجود کے موضوعات کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ ہم بھی 'رفتگان' (بھولنے کی جگہ) میں ہیں اور اس قافلے کے بھی ساتھی ہیں۔ یہ نظم ایک وسیع اور مشترکہ انسانی تجربے کا اظہار کرتی ہے، جہاں شاعر خود کو باغ اور بلبل کے رشتے میں بھی شامل قرار دیتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
रफ़्तगाँ में जहाँ के हम भी हैं साथ उस कारवाँ के हम भी हैं
رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں ساتھ اس کارواں کے ہم بھی ہیں
رَفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں، ساتھ اُس کارواں کے ہم بھی ہیں۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ ہم بھی مسافروں کے قافلے میں ہیں اور اس کاروان کا بھی حصہ ہیں۔
2
शम्अ ही सर न दे गई बर्बाद कुश्ता अपनी ज़बाँ के हम भी हैं
شمع ہی سر نہ دے گئی برباد کشتہ اپنی زباں کے ہم بھی ہیں
شمع ہی سر نہ دے گئی برباد، قصتا اپنی زبان کے ہم بھی ہیں ۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ میں تلوار یا تیر سے نہیں، بلکہ اپنی زبان سے ہی برباد ہو گیا ہوں۔
3
हम को मजनूँ को इश्क़ में मत बूझ नंग उस ख़ानदाँ के हम भी हैं
ہم کو مجنوں کو عشق میں مت بوجھ ننگ اس خانداں کے ہم بھی ہیں
ہم کو مجنوں کو عشق میں مت سمجھنا، ہم بھی اُس خاندان کے ہیں।
4
जिस चमन-ज़ार का है तू गुल-ए-तर बुलबुल इस गुलसिताँ के हम भी हैं
جس چمن زار کا ہے تو گل تر بلبل اس گلستاں کے ہم بھی ہیں
جس چمن زار کا ہے تُو گلِ تر بلبل، اس گلستاں کے ہم بھی ہیں. (یعنی: اگر تو اس باغ کا سب سے حسین پھول ہے، تو جان لو کہ ہم بھی اس پھولوں کے باغ میں ایک بلبل ہیں۔)
5
नहीं मजनूँ से दिल क़वी लेकिन यार उस ना-तवाँ के हम भी हैं
نہیں مجنوں سے دل قوی لیکن یار اس ناتواں کے ہم بھی ہیں
مجنون سے دل قوی نہیں، لیکن یار اس نا-توان کے ہم بھی ہیں।
6
बोसा मत दे किसू के दर पे नसीम ख़ाक उस आस्ताँ के हम भी हैं
بوسہ مت دے کسو کے در پہ نسیم خاک اس آستاں کے ہم بھی ہیں
نسم، کسی کے در پر کوئی بوسہ نہ دینا، کیونکہ ہم بھی اسی آستانے کی خاک ہیں۔
7
गो शब उस दर से दूर पहरों फिरें पास तो पासबाँ के हम भी हैं
گو شب اس در سے دور پہروں پھریں پاس تو پاسباں کے ہم بھی ہیں
گو شب اُس در سے دور پہروں پھیریں، پاس تو پاسبان کے ہم بھی ہیں ۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ ہم اس دروازے سے دور دور گھومتے ہیں، مگر پھر بھی ہم پاسبانوں کی طرح قریب ہیں۔
8
वजह-ए-बेगानगी नहीं मालूम तुम जहाँ के हो वाँ के हम भी हैं
وجہ بیگانگی نہیں معلوم تم جہاں کے ہو واں کے ہم بھی ہیں
مجھے بےگانگی کی وجہ معلوم نہیں، پر تم جہاں ہو، ہم بھی وہیں ہوں گے۔
9
मर गए मर गए नहीं तो नहीं ख़ाक से मुँह को ढाँके हम भी हैं
مر گئے مر گئے نہیں تو نہیں خاک سے منہ کو ڈھانکے ہم بھی ہیں
مر گئے مر گئے نہیں تو نہیں، اس کا کوئی یقین نہیں؛ ہم بھی ہیں جو اپنے چہروں کو دھول سے ڈھانپتے ہیں۔
10
अपना शेवा नहीं कजी यूँ तो यार जी टेढ़े बाँके हम भी हैं
اپنا شیوہ نہیں کجی یوں تو یار جی ٹیڑھے بانکے ہم بھی ہیں
یار جی، ہم بھی ٹیڑھے بَنکے ہیں، یہ بات ہے۔ (اس کا مطلب ہے کہ ہم بھی تھوڑے غیر روایتی یا خامیوں والے ہیں۔)
11
इस सिरे की है पारसाई 'मीर' मो'तक़िद उस जवाँ के हम भी हैं
اس سرے کی ہے پارسائی میرؔ معتقد اس جواں کے ہم بھی ہیں
اس سِرے کی ہے پارسائی 'میر' کا مطلب ہے کہ یہ ایک حد یا کنارہ ہے، اور 'مو'تقیّد उस جوان کے ہم بھی ہیں' کا مطلب ہے کہ ہم بھی اس نوجوان کے وقف ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.