شمع ہی سر نہ دے گئی برباد — میر تقی میر

شمع ہی سر نہ دے گئی برباد کشتہ اپنی زباں کے ہم بھی ہیں

“I am also ruined by my own tongue, not by the sword or the arrow.”

— میر تقی میر

معنی

شمع ہی سر نہ دے گئی برباد، قصتا اپنی زبان کے ہم بھی ہیں ۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ میں تلوار یا تیر سے نہیں، بلکہ اپنی زبان سے ہی برباد ہو گیا ہوں۔

تشریح

یہ شعر اپنے الفاظ کی خود تباہی پر بات کرتا ہے۔ میر تقی میر کہتے ہیں کہ ایک شمع بھی سر کو برباد نہیں کر سکی، بلکہ اصل تباہی تو اپنی زبان سے ہوتی ہے۔ یہ ایک گہرا احساس ہے کہ سب سے بڑے دشمن باہر نہیں، بلکہ ہمارے اپنے بے قابو خیالات ہوتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.