غزل

न गया ख़याल-ए-ज़ुल्फ़-ए-सियह जफ़ा-शआराँ

न गया ख़याल-ए-ज़ुल्फ़-ए-सियह जफ़ा-शआराँ
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

غزل کا مرکزی خیال محبوب کے سیاہ زلفوں کے خیال کے باقی رہنے پر ہے، جو اس وقت بھی نہیں گیا جب رات کا جشن ختم ہو گیا۔ شاعر مخاطب کر رہا ہے کہ اس نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ تیرے تانکے ڈھیلے ہوں گے، اور یہ دل بھی نہیں گیا جو بے قرار ہے۔ اشعار زندگی میں خوشی اور غم کے اتار چڑھاؤ اور دنیا میں ہر چیز کی تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔ آخر میں، شاعر کہتا ہے کہ اس کی آہ و اشک سے سب کچھ خطرے میں ہے، کیونکہ یہ دنیا پہلے بھی ایسی ہی رہی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
न गया ख़याल-ए-ज़ुल्फ़-ए-सियह जफ़ा-शआराँ न हुआ कि सुब्ह होवे शब-ए-तीरा रोज़गाराँ
نہ گیا خیال زلف سیہ جفا شعاراں نہ ہوا کہ صبح ہووے شب تیرہ روزگاراں
نہیں گیا خیالِ زُلفِ سیاہ، اے جفا شائر، اور نہ ہوا کہ صبح ہو گئی، اے روزگار۔
2
न कहा था ऐ रफ़ूगर तिरे टाँके होंगे ढीले न सिया गया ये आख़िर दिल-ए-चाक-ए-बे-क़राराँ
نہ کہا تھا اے رفوگر ترے ٹانکے ہوں گے ڈھیلے نہ سیا گیا یہ آخر دل چاک بے قراراں
میں نے کبھی نہیں کہا تھا اے رفوگر کہ تیرے ٹانکے ہوں گے ڈھیلے، نہ کہا کہ یہ دل بے قرار ہے۔
3
हुई ईद सब ने पहने तरब-ओ-ख़ुशी के जामे न हुआ कि हम भी बदलें ये लिबास-ए-सोगवाराँ
ہوئی عید سب نے پہنے طرب و خوشی کے جامے نہ ہوا کہ ہم بھی بدلیں یہ لباس سوگواراں
سب نے خوشی اور عیش کے جامے پہنے، مگر ہم نے یہ لباسِ سگواراں نہیں بدلا۔
4
ख़तर अज़ीम में हैं मिरी आह-ओ-अश्क से सब कि जहान रह चुका फिर जो यही है बाद-ओ-बाराँ
خطر عظیم میں ہیں مری آہ و اشک سے سب کہ جہان رہ چکا پھر جو یہی ہے باد و باراں
میری آہ و اشک سے سب میں ایک بڑا خطرہ ہے، کہ جہاں فسانہ کے بعد بھی ویسی ہی رہ گئی ہے۔
5
कहीं ख़ाक-ए-कू को उस की तू सबा न दीजो जुम्बिश कि भरे हैं इस ज़मीं में जिगर जिगर-फ़िगाराँ
کہیں خاک کو کو اس کی تو صبا نہ دیجو جنبش کہ بھرے ہیں اس زمیں میں جگر جگر فگاراں
کَہیں خاکِ-ے-کو کو اُس کی تُو صبا نہ دیجو جنبش، کہ بھرے ہیں اِس زمیں میں جگر جگر-فِگراں۔ (مطلب یہ کہ اس کی قبر کے پاس ایسی ہوا کا جھونکا نہ دینا کہ اس کی دھول کو بھی ہلا دے، کیونکہ یہ زمین جیتے جاگتے لوگوں کے دلوں اور وجود سے بھری ہوئی ہے۔)
6
रखे ताज-ए-ज़र को सर पर चमन ज़माना में गिल न शगुफ़्ता हो तू इतना कि ख़िज़ाँ है ये बहाराँ
رکھے تاج زر کو سر پر چمن زمانہ میں گل نہ شگفتہ ہو تو اتنا کہ خزاں ہے یہ بہاراں
اپنے سر پر تاجِ زر رکھنا، اے زمانہ، اور باغِ زمانے میں اتنا شگوفتا نہ ہو کہ یہ خزاں ہی بہار ہو۔
7
नहीं तुझ को चश्म-ए-इबरत ये नुमूद में है वर्ना कि गए हैं ख़ाक में मिल कई तुझ से ताज-दाराँ
نہیں تجھ کو چشم عبرت یہ نمود میں ہے ورنہ کہ گئے ہیں خاک میں مل کئی تجھ سے تاجداراں
یا کہ چشـمِ عبرت یہ نمو میں نہیں ہے ورنہ کئی تاج داراں तुझ سے خاک میں مل گئے ہوتے۔
8
तू जहाँ से दिल उठा याँ नहीं रस्म-ए-दर्दमंदी किसी ने भी यूँ न पूछा हुए ख़ाक याँ हज़ाराँ
تو جہاں سے دل اٹھا یاں نہیں رسم دردمندی کسی نے بھی یوں نہ پوچھا ہوئے خاک یاں ہزاراں
شایر، تو نے دل کہاں سے اٹھایا؟ کیا درد کی کوئی رسم ہے؟ کسی نے کبھی یوں نہیں پوچھا (اے خاک) یا (اے ہزاراں)۔
9
ये अजल से जी छुपाना मिरा आश्कार हैगा कि ख़राब होगा मुझ बिन ग़म-ए-इश्क़ गुल-अज़ाराँ
یہ اجل سے جی چھپانا مرا آشکار ہے گا کہ خراب ہوگا مجھ بن غم عشق گل غداراں
یہ اَجل سے جِینا چھپانا میرا اِعلان ہو گا، کہ میرے بغیر غمِ عشق گل اَزاران ہو گا۔
10
ये सुना था 'मीर' हम ने कि फ़साना ख़्वाब ला है तिरी सर-गुज़श्त सुन कर गए और ख़्वाब याराँ
یہ سنا تھا میرؔ ہم نے کہ فسانہ خواب لا ہے تری سر گذشت سن کر گئے اور خواب یاراں
یہ سنا تھا 'میر' ہم نے کہ فسانہ خواب لا ہے، تیرے سرگُزشت سن کر گئے تو وہ خواب ہی یاراں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.