غزل
दैर-ओ-हरम से गुज़रे अब दिल है घर हमारा
दैर-ओ-हरम से गुज़रे अब दिल है घर हमारा
یہ غزل زندگی کے تجربات اور محبت کی گہرائی کو بیان کرتی ہے، جس میں شاعر کہتا ہے کہ اب دل کا گھر کہیں دور سفر میں نہیں بلکہ خود میں ہے۔ وہ بات کرتا ہے کہ اس کی زندگی اب کسی بیرونی سیر و سفر کا حصہ نہیں ہے۔ یہ محبت میں ملے درد اور تقدیر کو قبول کرنے کے احساس کو ظاہر کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दैर-ओ-हरम से गुज़रे अब दिल है घर हमारा
है ख़त्म इस आबले पर सैर-ओ-सफ़र हमारा
دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہمارا، ہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہمارا۔ اس کا مطلب ہے کہ دل نے اب حرم کی گلیوں سے گزر کر ہمارے گھر کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا ہے، اور اس بے قرار کیفیت پر ہماری سیر و سفر ختم ہو گئی ہے۔
2
पलकों से तेरी हम को क्या चश्म-दाश्त ये थी
इन बर्छियों ने बाँटा बाहम जिगर हमारा
پلکوں سے تیری ہمیں کیا یادداشت ملی؟ ان تیروں نے ہمارے دل کو बाँट دیا۔
3
दुनिया-ओ-दीं की जानिब मैलान हो तो कहिए
क्या जानिए कि उस बिन दिल है किधर हमारा
اگر میرا دل دنیا اور دین کی جانب مائل ہو تو کہیے، کیا جانوں کہ اس کے بغیر میرا دل کہاں ہے۔
4
हैं तेरे आइने की तिमसाल हम न पूछो
इस दश्त में नहीं है पैदा असर हमारा
میں آپ کے آئینے کی پیمائش نہیں پوچھتا، ہمارا اثر اس صحرا میں پیدا نہیں ہوا۔
5
जूँ सुब्ह अब कहाँ है तूल-ए-सुख़न की फ़ुर्सत
क़िस्सा ही कोई दम को है मुख़्तसर हमारा
جُوں صبح اب کہاں ہے تُولِ-اُسْخَن کی فُرصت۔ قصّہ ہی کوئی دم کو ہے مُختصر ہمارا۔ (معنی: صبح کا وقت اب کہاں ہے جب شاعری کے قلم کو فرصت ملے؟ ہماری کہانی تو محض ایک پل کی، مختصر ہے۔)
6
कूचे में उस के जा कर बनता नहीं फिर आना
ख़ून एक दिन गिरेगा उस ख़ाक पर हमारा
اس کے گھر جا کر ہماری زندگی نہیں بنتی، لہٰذا واپس مت آنا۔ ایک دن ہمارا خون اس خاک پر ضرور گرے گا۔
7
है तीरा-रोज़ अपना लड़कों की दोस्ती से
इस दिन ही को कहे था अक्सर पिदर हमारा
ہر روز اپنا لڑکوں کی دوستی سے، اس دن ہی کو کہے تھا اکثر پیڈر ہمارا۔
8
सैलाब हर तरफ़ से आएँगे बादीए में
जूँ अब्र रोते होगा जिस दम गुज़र हमारा
ہر طرف سے سیلاب آئے گا بادِیہ میں، جوں ابر روتے ہوں گے جس دم گزر ہمارا
9
नश्व-ओ-नुमा है अपनी जूँ गर्द-बाद अनोखी
बालीदा ख़ाक-ए-रह से है ये शजर हमारा
نشب و نما ہے اپنی جوں گرد بادہ انوکھی۔ آلیٰ دا خاکِ رَہ سے ہے یہ شجر ہمارا
10
यूँ दूर से खड़े हो क्या मो'तबर है रोना
दामन से बाँध दामन ऐ अब्र-ए-तर हमारा
تم یوں دور سے کھڑے ہو کیا قابلِ بھروسہ ہے یہ رونا۔ اے ابرِ تر، ہمارے दामن کو اپنے दामن سے باندھ لو۔
11
जब पास रात रहना आता है याद उस का
थमता नहीं है रोना दो दोपहर हमारा
جب رات قریب آتی ہے اور اس کی یاد آتی ہے، تو رونا تھمتا نہیں؛ ہمیں دو دوپہر تک رونے دو۔
12
इस कारवाँ-सरा में क्या 'मीर' बार खोलें
याँ कूच लग रहा है शाम-ओ-सहर हमारा
اس کارواں سرے میں کیا 'میر' بار کھولیں، یا کوچ لگ رہا ہے شام و سحر ہمارا۔ اس شعر کا مطلب ہے کہ शायر ('میر') کو ایک عارضی، ہجوم والی جگہ پر کوئی مستقل ٹھکانہ یا معمول قائم نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس کا سفر بہت وسیع اور نہ ختم ہونے والا ہے، جو شام سے لے کر صبح تک پھیلا ہوا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
