दैर-ओ-हरम से गुज़रे अब दिल है घर हमारा
है ख़त्म इस आबले पर सैर-ओ-सफ़र हमारा
“From the streets of the Haram, the heart now passes through our home; on this fever, our wandering and journey are finished.”
— میر تقی میر
معنی
دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہمارا، ہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہمارا۔ اس کا مطلب ہے کہ دل نے اب حرم کی گلیوں سے گزر کر ہمارے گھر کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا ہے، اور اس بے قرار کیفیت پر ہماری سیر و سفر ختم ہو گئی ہے۔
تشریح
یہ شعر دل کی منزل کے بدل جانے کا ذکر ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ دل کا ٹھکانہ अब किसी बाहरी जगह یا مزارات میں نہیں رہا۔ یہ جو سفر تھا، یہ جو دنیاوی بہاؤ تھا... وہ اس عشق की आग पर थम गया है।
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
1 / 12Next →
