“From the streets of the Haram, the heart now passes through our home; on this fever, our wandering and journey are finished.”
دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہمارا، ہے ختم اس آبلے پر سیر و سفر ہمارا۔ اس کا مطلب ہے کہ دل نے اب حرم کی گلیوں سے گزر کر ہمارے گھر کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا ہے، اور اس بے قرار کیفیت پر ہماری سیر و سفر ختم ہو گئی ہے۔
یہ شعر دل کی منزل کے بدل جانے کا ذکر ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ دل کا ٹھکانہ अब किसी बाहरी जगह یا مزارات میں نہیں رہا۔ یہ جو سفر تھا، یہ جو دنیاوی بہاؤ تھا... وہ اس عشق की आग पर थम गया है।
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
