غزل

है हाल जा-ए-गिर्या जान-ए-पुर-आरज़ू का

है हाल जा-ए-गिर्या जान-ए-पुर-आरज़ू का
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل جدائی اور مایوسی کے گہرے جذبات کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ کبھی کسی کے دامن کو پکڑ کر نہیں روئے گا۔ وہ اپنی خوبصورتی کا ذکر کرتا ہے جو اب اٹھائی نہیں جا سکتی، اور محبوب کے آستانے اور گلی کا حوالہ دیتا ہے۔ شعر کا اختتام قمری اشک و باغ کے ٹوٹے پانی کی استعارہ سے ہوتا ہے، جو ایک گہرے نقصان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
है हाल जा-ए-गिर्या जान-ए-पुर-आरज़ू का रोए न हम कभू टुक दामन पकड़ किसू का
ہے حال جائے گریہ جان پر آرزو کا روئے نہ ہم کبھو ٹک دامن پکڑ کسو کا
جا-ے-گِریّا اور جان-ے-پُر-آرزو کی حالت ایسی ہے کہ ہم نہ کبھی روئیں گے اور نہ ہی کبھی کسی کا दामن پکڑیں گے۔
2
जाती नहीं उठाई अपने पे ये ख़ुशूनत अब रह गया है आना मेरा कभू कभू का
جاتی نہیں اٹھائی اپنے پہ یہ خشونت اب رہ گیا ہے آنا میرا کبھو کبھو کا
یہ خوبصورتی، جو آپ پر نہیں اتری، اب صرف میرا کبھی کبھار آنا باقی ہے۔
3
उस आस्ताँ से किस दिन पुर-शोर सर न पटका उस की गली में जा कर किस रात मैं न कूका
اس آستاں سے کس دن پر شور سر نہ پٹکا اس کی گلی میں جا کر کس رات میں نہ کوکا
اس آستان سے کس دن پر شور سر نہ پٹکا، اس کی گلی میں جا کر کس رات میں نہ کوکا۔ (مطلب: میں ہر وقت اور ہر رات وہاں موجود رہتا تھا۔)
4
शायद कि मुँद गई है क़ुमरी की चश्म-ए-गिर्यां कुछ टूट सा चला है पानी चमन की जू का
شاید کہ مند گئی ہے قمری کی چشم گریاں کچھ ٹوٹ سا چلا ہے پانی چمن کی جو کا
شاید کہ قمری کی آنکھوں کے اشک چھپ گئے ہیں، یا باغ کے گلدان سے کچھ پانی ٹپکا ہے۔
5
अपने तड़पने की तो तदबीर पहले कर लूँ तब फ़िक्र मैं करूँगा ज़ख़्मों के भी रफ़ू का
اپنے تڑپنے کی تو تدبیر پہلے کر لوں تب فکر میں کروں گا زخموں کے بھی رفو کا
پہلے اپنے تڑپنے کی تدبیر کر لوں گا؛ تب میں زخموں کے بھرنے کی فکر کروں گا۔
6
दाँतों की नज़्म उस के हँसने में जिन ने देखी फिर मोतियों की लड़ पर उन ने कभू न थूका
دانتوں کی نظم اس کے ہنسنے میں جن نے دیکھی پھر موتیوں کی لڑ پر ان نے کبھو نہ تھوکا
दाँतों کی نظم اس کے ہنسنے میں جن نے دیکھی، پھر موتیوں کی لڑی پر اُن نے کبھی نہ تھوکا۔ (مطلب: جس نے اس کے ہنسنے میں دانتوں کی شاعری دیکھی، اس نے کبھی موتیوں کی لڑی پر بھی نہیں تھوکا۔)
7
ये ऐश-गह नहीं है याँ रंग और कुछ है हर गुल है इस चमन में साग़र भरा लहू का
یہ عیش گہ نہیں ہے یاں رنگ اور کچھ ہے ہر گل ہے اس چمن میں ساغر بھرا لہو کا
یہ عیش گہ نہیں ہے یاں رنگ اور کچھ ہے، ہر گل ہے اِس چمن میں ساغر بھرا لہو کا۔
8
बुलबुल ग़ज़ल-सराई आगे हमारे मत कर सब हम से सीखते हैं अंदाज़ गुफ़्तुगू का
بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کر سب ہم سے سیکھتے ہیں انداز گفتگو کا
بلبل، غزل-سَرائی میں آگے نہ بڑھ؛ ہم سب تجھ سے گفتگو کا انداز سیکھتے ہیں۔
9
गलियाँ भरी पड़ी हैं ऐ बाद ज़ख़्मियों से मत खोल पेच ज़ालिम उस ज़ुल्फ़-ए-मुश्क-बू का
گلیاں بھری پڑی ہیں اے باد زخمیوں سے مت کھول پیچ ظالم اس زلف مشک بو کا
گلیان بھرے پڑے ہیں اے باد زخمیوں سے، مت کھول پیچ زالیم اُس زُلفِ مُشک-بُو کا
10
वे पहली इलतिफ़ातें सारी फ़रेब निकलीं देना न था दिल उस को मैं 'मीर' आह चूका
وے پہلی التفاتیں ساری فریب نکلیں دینا نہ تھا دل اس کو میں میرؔ آہ چوکا
وہ پہلی التیفاتیں ساری فریب نکلیं؛ میں ’میر‘ کو اپنا دل دینا نہیں چاہتا تھا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.