وے پہلی التفاتیں ساری فریب نکلیں — میر تقی میر
“All those initial favors turned out to be deception; I, 'Mir', didn't need to give my heart to such a person.”
معنی
وہ پہلی التیفاتیں ساری فریب نکلیं؛ میں ’میر‘ کو اپنا دل دینا نہیں چاہتا تھا۔
تشریح
وہ پہلی اِلْتِفَاتیں ساری فریب نکلیं؛ دینا نہ تھا دل اُس کو میں 'میر' آہا چُکا۔ میر تقی میر یہاں ایک گہرے مایوسی کا اظہار کرتے ہیں، جو یہ اشارہ دیتا ہے کہ ابتدائی محبت کے لمحات اکثر دھوکے بازی ہوتے ہیں۔ یہ اشعار خود-قناعت اور اپنی جذبات کی قدر کا احساس دلاتے ہیں، جہاں شاعر جانتا ہے کہ اس کا دل کسی سطحی وعدے یا جھوٹے سلوک کے قابل نہیں ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
