غزل
समझे थे 'मीर' हम कि ये नासूर कम हुआ
समझे थे 'मीर' हम कि ये नासूर कम हुआ
یہ غزل عشق کے گہرے درد اور اس کے اتار چڑھاؤ کا بیان ہے، جس میں 'ناسور' (قرحہ) کی علامت استعمال کی گئی ہے۔ شاعر 'میر' کہتے ہیں کہ جو زخم وہ سمجھا تھا کہ بھر گیا ہے، وہ دوبارہ गहरा हो गया ہے۔ یہ غزل جدائی کے دکھ، محبت کے دھوکے اور دل کی مسلسل اذیت کو بیان کرتی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
समझे थे 'मीर' हम कि ये नासूर कम हुआ
फिर उन दिनों मैं दीदा-ए-ख़ूँ-बार नम हुआ
ہم نے سوچا تھا، 'میر'، کہ یہ پرانا زخم ٹھیک ہو گیا ہوگا، مگر ان دنوں میں نے پھر خون کا منظر دیکھا۔
2
आए ब-रंग-ए-अब्र अरक़-नाक तुम उधर
हैरान हूँ कि आज किधर को करम हुआ
جب ب-رنگ-ے-أبَر ؤ عرق-ناک تم اُدھر
حیران ہوں کہ آج کِدھر کو کرم ہوا
3
तुझ बिन शराब पी के मूए सब तिरे ख़राब
साक़ी बग़ैर तेरे उन्हें जाम-ए-सम हुआ
تجھ بِن شراب پِی کے مُوے سب تیرے خراب، ساقی بغِیر تیرے اُنہیں جامِ زہر ہوا।
4
काफ़िर हमारे दिल की न पूछ अपने 'इश्क़ में
बैत-उल-हराम था सो वो बैतुस-सनम हुआ
کافر! ہمارے دل کی نہ پوچھ اپنے 'عشق میں، بیتالہرام تھا سو وہ بیتالسمم ہوا. اس کا لفظی مطلب ہے کہ اے میرے عشق، تم میرے دل کی حالت کے بارے میں مت پوچھنا، کیونکہ جو جگہ مقدس (بیتالہرام) تھی وہ اب بت پرستی (بیتالسمم) کا مقام بن گئی ہے۔
5
ख़ाना-ख़राब किस का किया तेरी चश्म ने
था कौन यूँ जिसे तू नसीब एक दम हुआ
کس کا خانا خراب کیا تیرے چشم نے؟ تھا کون یوں جسے تو نصیب اک دم ہوا
6
तलवार किस के ख़ून में सर डूब है तिरी
ये किस अजल-रसीदा के घर पर सितम हुआ
تیری تلوار کس کے خون میں ڈوبی ہے، اور کس اجل رسیدا کے گھر پر یہ ظلم ہوا ہے؟
7
आई नज़र जो गोर सुलैमाँ की एक रोज़
कूचे पर उस मज़ार के था ये रक़म हुआ
جب میری نظر گور سلیمان کی قبر پر پڑی، تو میں اس مزار کے قریب گلی میں تھا۔
8
का-ए-सर-कशाँ जहान में खींचा था में भी सर
पायान-ए-कार मोर की ख़ाक-ए-क़दम हुआ
اے میرے سر، کہاں دنیا میں کھینچا تھا مجھے؟ میرا سر مور کے قدموں کی خاک ہو گیا۔
9
अफ़्सोस की भी चश्म थी उन से ख़िलाफ़-ए-अक़्ल
बार-ए-इलाक़ा से तो 'अबस पुश्त-ए-ख़म हुआ
افسوس کی بھی چشم تھی ان سے خلافِ عقل؛ بارِ علاقہ سے تو 'اباس' پشتِ خُم ہوا۔
10
अहल-ए-जहाँ हैं सारे तिरे जीते-जी तलक
पूछेंगे भी न बात जहाँ तो 'अदम हुआ
سارے اہلِ جہاں ہیں سارے تیرے جیتے جی تَلک، پوچھیں گے بھی نہ بات جہاں تو 'آدم ہوا
11
क्या क्या 'अज़ीज़ दोस्त मिले 'मीर' ख़ाक में
नादान याँ कसो का कसो को भी ग़म हुआ
میر پوچھتے ہیں کہ اس خاک میں مجھے کس کس طرح کے عزیز دوست ملے، اور یہاں کے ناداں ماحول میں تو عام غم بھی مل گیا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
