आए ब-रंग-ए-अब्र अरक़-नाक तुम उधर
हैरान हूँ कि आज किधर को करम हुआ
“When the colors of the clouds and the intoxication appeared, you, oh lovely one, in that direction; I am astonished as to where you have bestowed your grace today.”
— میر تقی میر
معنی
جب ب-رنگ-ے-أبَر ؤ عرق-ناک تم اُدھر حیران ہوں کہ آج کِدھر کو کرم ہوا
تشریح
Mir Taqi Mir یہاں حیرت اور تعجب کا ایک خوبصورت احساس بیان کرتے ہیں۔ 'رنگِ ابر' اور 'ارقمناک' قدرت کی خوبصورتی اور روحانی نشہ کی مثالیں ہیں۔ شاعر حیران ہے کہ محبوب کا کرم کتنا اچانک اور بے وقت ظاہر ہوا، بالکل ایک اچانک، تازہ مون سون کی طرح۔ یہ غیر متوقع فضل سے چمگانے کے احساس کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔
