غزل

रफ़्तार-ओ-तौर-ओ-तर्ज़-ओ-रविश का ये ढब है क्या

रफ़्तार-ओ-तौर-ओ-तर्ज़-ओ-रविश का ये ढब है क्या
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل ایک ایسے رشتے پر سوال اٹھاتی ہے جہاں پہلے کی سادگی اور فطرت کھو چکی ہے۔ شاعر شکایت کرتے ہیں کہ محبوب نے اپنے سلوک، انداز اور نفاست میں تبدیلی کی ہے، جس سے ان کا احترام اور پیار دونوں ہی کم ہو گئے ہیں۔ یہ محبت میں آئے ہوئے بدلتے ہوئے رویے اور بے رخی کے دکھ کو بیان کرتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
रफ़्तार-ओ-तौर-ओ-तर्ज़-ओ-रविश का ये ढब है क्या पहले सुलूक ऐसे ही तेरे थे अब है क्या
رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیا پہلے سلوک ایسے ہی تیرے تھے اب ہے کیا
یہ رفتار، طور، طرز اور رَویش کا کیا سیلاب ہے؟ کیا پہلے تمہارے سلوک ایسے ہی تھے، یا اب کچھ بدل گیا ہے؟
2
हम दिल-ज़दा न रखते थे तुम से ये चश्म-दाश्त करते हो क़हर लुत्फ़ की जागा ग़ज़ब है क्या
ہم دل زدہ نہ رکھتے تھے تم سے یہ چشم داشت کرتے ہو قہر لطف کی جاگا غضب ہے کیا
ہم پہلے کبھی تم سے دل زدا نہیں تھے، اے یاد رکھنے والے، یہ لطف اور قہر کا ملاپ کتنا حیرت انگیز ہے؟
3
इज़्ज़त भी बा'द ज़िल्लत बिसयार छेड़ है मज्लिस में जब ख़फ़ीफ़ किया फिर अदब है क्या
عزت بھی بعد ذلت بسیار چھیڑ ہے مجلس میں جب خفیف کیا پھر ادب ہے کیا
اگر عزت بھی ذلت کے بعد بہت مذاق کیا گیا ہے، تو محفل میں اب ادب کیا ہے۔
4
आए हम आप में तो न पहचाने फिर गए उस राह-ए-साब इश्क़ में यारो तअब है क्या
آئے ہم آپ میں تو نہ پہچانے پھر گئے اس راہ صعب عشق میں یارو تعب ہے کیا
جب ہم آپ میں تو نہ پہچانے پھر گئے۔ او یارو، یہ راہِ سابِ عشق کیا ہے؟
5
हैराँ हैं उस दहन के अज़ीज़ान-ए-ख़ुर्दा-बीं ये भी मक़ाम हाए तअम्मुल तलब है क्या
حیراں ہیں اس دہن کے عزیزان خوردہ بیں یہ بھی مقام ہائے تامل طلب ہے کیا
ان لوگوں کو حیرت ہے جو اس جلن کے عزیز ہیں، جو جلنے سے محبت کرتے ہیں؛ کیا یہ بھی غور و فکر کا مقام طلب ہے؟
6
आँखें जो होवें तेरी तो तू ऐन कर रखे आलम तमाम गर वो नहीं तो ये सब है क्या
آنکھیں جو ہوویں تیری تو تو عین کر رکھے عالم تمام گر وہ نہیں تو یہ سب ہے کیا
اگر تیری آنکھیں موجود ہوں، تو تُو نے ایک مکمل عالم بنا دیا ہے؛ ورنہ یہ سب کیا ہے۔
7
उस आफ़्ताब बिन नहीं कुछ सूझता हमें गर ये ही अपने दिन हैं तो तारीक शब है क्या
اس آفتاب بن نہیں کچھ سوجھتا ہمیں گر یہ ہی اپنے دن ہیں تو تاریک شب ہے کیا
اس آفتاب کے بغیر ہمیں کچھ سمجھ نہیں آتا، اور اگر یہ ہی ہمارے دن ہیں، تو یہ تاریک شب کیا ہے۔
8
तुम ने हमेशा जौर-ओ-सितम बे-सबब किए अपना ही ज़र्फ़ था जो न पूछा सबब है क्या
تم نے ہمیشہ جور و ستم بے سبب کیے اپنا ہی ظرف تھا جو نہ پوچھا سبب ہے کیا
تم نے ہمیشہ بغیر کسی وجہ ظلم و ستم کیے؛ یہ تمہاری اپنی تکبر تھا جس نے کبھی وجہ نہیں پوچھی۔
9
क्यूँकर तुम्हारी बात करे कोई ए'तिबार ज़ाहिर में क्या कहो हो सुख़न ज़ेर-ए-लब है क्या
کیوں کر تمہاری بات کرے کوئی اعتبار ظاہر میں کیا کہو ہو سخن زیر لب ہے کیا
کس موقعے پر کوئی تمہاری بات کرے؟ ظاہر میں کیا کہو گے، اور لبوں کے نیچے کیا ہے؟
10
उस मह बग़ैर 'मीर' का मरना अजब हुआ हर-चंद मर्ग-ए-आशिक़ मिस्कीं अजब है क्या
اس مہ بغیر میرؔ کا مرنا عجب ہوا ہر چند مرگ عاشق مسکیں عجب ہے کیا
तुम्हारी याद کے بغیر 'میر' کا مرنا عجیب ہوا، ہر چند مرغِ عاشق مسکین عجیب ہے کیا؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.