غزل
उस का ख़िराम देख के जाया न जाएगा
उस का ख़िराम देख के जाया न जाएगा
یہ غزل ایک عاشق کی وِصال اور جدائی کے شدید درد و اذیت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ایک بار محبوب کے خِرام دیکھ لینے کے بعد، اسے بھلایا نہیں جا سکے گا۔ یہ عشق کا ایسا رشتہ ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا اور کبھی ختم نہیں ہوگا۔
نغمہ سنیں
1
उस का ख़िराम देख के जाया न जाएगा
ऐ कब्क फिर बहाल भी आया न जाएगा
اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا
اس کی خوبصورتی دیکھ کر وہ جا نہیں سکے گا؛ اے دوست، پھر سے اس کی بحالی بھی نہیں ہوگی۔
2
हम कशतगान-ए-इशक़ हैं अब्रू-ओ-चश्म-ए-यार
सर से हमारे तेग़ का साया न जाएगा
ہم کشتگان عشق ہیں ابرو و چشم یار
سر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا
ہم کَشْتگانِِ اِشْق ہیں، اَبْرُو و چَشْمِ یَار؛ سَر سے ہمارے تِگّ کا سایا نہ جائے گا۔
3
हम रहरवान-ए-राह-ए-फ़ना हैं बिरंग-ए-उम्र
जावेंगे ऐसे खोज भी पाया न जाएगा
ہم رہروان راہ فنا ہیں برنگ عمر
جاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا
ہم راہِ فنا کے رہگذر ہیں، عمر کے رنگ سے رنگے ہوئے ہیں۔ ہم ایسے چلے جائیں گے کہ ہمیں تلاش بھی نہ کر پایا جائے گا۔
4
फोड़ा सा सारी रात जो पकता रहेगा दिल
तो सुब्ह तक तो हाथ लगाया न जाएगा
پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل
تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا
اگر دل ساری رات پھوڑے سا پکتا رہے گا، تو صبح تک اسے چھوا نہیں جا سکے گا۔
5
अपने शहीद-ए-नाज़ से बस हाथ उठा कि फिर
दीवान-ए-हश्र में उसे लाया न जाएगा
اپنے شہید ناز سے بس ہاتھ اٹھا کہ پھر
دیوان حشر میں اسے لایا نہ جائے گا
اپنے شہیدِ ناز سے بس ہاتھ اٹھا کہ پھر دیوانِ حشر میں اسے لایا نہ جائے گا۔ (اس کا مطلب ہے کہ اس نے اپنے پیارے، جو نज़ाकत کے شہید ہیں، سے صرف ہاتھ کے اشارے سے کہہ دیا کہ اسے حساب کے میدان میں نہیں لایا جائے گا۔)
6
अब देख ले कि सीना भी ताज़ा हुआ है चाक
फिर हम से अपना हाल दिखाया न जाएगा
اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک
پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا
اس کا مطلب ہے کہ اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے دوست، پھر تم سے اپنی حالت نہیں دکھایا جائے گا۔
7
हम बे-ख़ुदान-ए-महफ़िल-ए-तस्वीर अब गए
आइंदा हम से आप में आया न जाएगा
ہم بے خودان محفل تصویر اب گئے
آئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا
ہم بےخُدانِ محفلِ تصویر اب گئے، آئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا۔
8
गो बे-सुतूँ को टाल दे आगे से कोहकन
संग-ए-गरान-ए-इश्क़ उठाया न जाएगा
گو بے ستوں کو ٹال دے آگے سے کوہ کن
سنگ گران عشق اٹھایا نہ جائے گا
اے راہ سے بھٹکتے ہوئے، مجھ سے دور رہ؛ عشق کا بھاری پتھر نہیں اٹھایا جا سکتا۔
9
हम तो गए थे शैख़ को इंसान बूझ कर
पर अब से ख़ानक़ाह में जाया न जाएगा
ہم تو گئے تھے شیخ کو انسان بوجھ کر
پر اب سے خانقاہ میں جایا نہ جائے گا
ہم تو شیخ کے پاس انسان سمجھ کر گئے تھے، پر اب سے خانقاہ میں نہیں جائیں گے۔
10
याद उस की इतनी ख़ूब नहीं 'मीर' बाज़ आ
नादान फिर वो जी से भुलाया न जाएगा
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
یاد اُس کی اتنی خوب نہیں، 'میر' باز آ۔ ناداں پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا۔ (مطلب: 'میر' سے مخاطب ہو کر کہا جا رہا ہے کہ اس کی یاد اتنی خوبصورت نہیں ہے، اے بھٹکے ہوئے دل، کہ یہ تو نادان دل سے بھلایا نہیں جا سکے گا۔)
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
