غزل

रही न-गुफ़्ता मिरे दिल में दास्ताँ मेरी

रही न-गुफ़्ता मिरे दिल में दास्ताँ मेरी
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

میرے دل میں ایک نہ کہی کہانی ہے، جسے کسی نے سمجھا نہیں۔ میں تجھ سے دور ہوں، مگر میری آہوں کا کارواں تجھے خبر نہیں۔ میں وہ نقشِ پے ہوں جو راہ میں مٹ گیا، اور میری کوئی سواد نہیں۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
रही न-गुफ़्ता मिरे दिल में दास्ताँ मेरी न उस दयार में समझा कोई ज़बाँ मेरी
رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری
میرے دل کی کہانی ابھی تک کہی نہیں گئی، اور اس دنیا میں میری کوئی زبان سمجھ نہیں پائی۔
2
ब-रंग-ए-सौत-ए-जरस तुझ से दूर हूँ तन्हा ख़बर नहीं है तुझे आह कारवाँ मेरी
برنگ صوت جرس تجھ سے دور ہوں تنہا خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری
اے زرّس، تیرے رنگِ آواز کے ساتھ، میں تجھ سے دور اور تنہا ہوں۔ تجھے میری آہ کاروان کا کوئی علم نہیں۔
3
तिरे न आज के आने में सुब्ह के मुझ पास हज़ार जाए गई तब-ए-बद-गुमाँ मेरी
ترے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاس ہزار جائے گئی طبع بدگماں میری
تیرے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاس، ہزار جائے گئی تَبِعِ بَدگُماں میری۔ اس کا سادہ अर्थ है कि نہ آج کے آنے سے اور نہ صبح کے قریب ہونے سے، میرے دل کے झूठे संदेह ने हज़ार (या बहुत अधिक) चीज़ें ख़र्च कर दी।
4
वो नक़्श-ए-पै हूँ मैं मिट गया हो जो रह में न कुछ ख़बर है न सुध हैगी रह-रवाँ मेरी
وہ نقش پئے ہوں میں مٹ گیا ہو جو رہ میں نہ کچھ خبر ہے نہ سدھ ہے گی رہ رواں میری
میں تمہارے قدموں کا نقش ہوں؛ اگر میں راہ سے مٹ گیا ہوں، تو کوئی خبر نہیں ہے اور نہ میرا سفر کبھی بہتر ہوگا۔
5
शब उस के कूचे में जाता हूँ इस तवक़्क़ो' पर कि एक दोस्त है वाँ ख़्वाब पासबाँ मेरी
شب اس کے کوچے میں جاتا ہوں اس توقع پر کہ ایک دوست ہے واں خواب پاسباں میری
میں اس لمحے اس محبوب کے گلیوں میں جاتا ہوں، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ وہاں ایک دوست میرے خوابوں کا نگہبان ہے۔
6
उसी से दूर रहा असल मुद्दआ' जो था गई ये उम्र-ए-अज़ीज़ आह राएगाँ मेरी
اسی سے دور رہا اصل مدعا جو تھا گئی یہ عمر عزیز آہ رائیگاں میری
اصل مدعا تو اسی سے دور رہنا تھا، جو تھا، وہ عمرِ عزیز گزر جائے گی؛ آہ، میری رگیں گزر جائیں گی۔
7
तिरे फ़िराक़ में जैसे ख़याल मुफ़्लिस का गई है फ़िक्र-ए-परेशाँ कहाँ कहाँ मेरी
ترے فراق میں جیسے خیال مفلس کا گئی ہے فکر پریشاں کہاں کہاں میری
تیری فراق میں جیسے ایک مفلس کا خیال ہے، میری پریشان فکر کہاں کہاں میری گئی ہے۔
8
नहीं है ताब-ओ-तवाँ की जुदाई का अंदोह कि ना-तवानी बहुत है मिज़ाज-दाँ मेरी
نہیں ہے تاب و تواں کی جدائی کا اندوہ کہ ناتوانی بہت ہے مزاج داں میری
مجھے نشے کی حالت کی جدائی کا کوئی غم نہیں ہے، کیونکہ میرا مزاج پہلے ہی بہت مست ہے۔
9
रहा मैं दर-ए-पस-ए-दीवार-ए-बाग़ मुद्दत लेक गई गुलों के न कानों तलक फ़ुग़ाँ मेरी
رہا میں در پس دیوار‌ باغ مدت لیک گئی گلوں کے نہ کانوں تلک فغاں میری
میں کافی دیر تک باغ کی دیوار کے دہانے پر کھڑا رہا، مگر میری آواز صرف پھولوں کے کانوں تک پہنچی۔
10
हुआ हूँ गिर्या-ए-ख़ूनीं का जब से दामन-गीर न आस्तीन हुई पाक दोस्ताँ मेरी
ہوا ہوں گریۂ خونیں کا جب سے دامن گیر نہ آستین ہوئی پاک دوستاں میری
جب سے میں گریۂ خونی کا دامنگیر ہوا، دوستوں میری آستین نہ پاک ہوئی ہے۔
11
दिया दिखाई मुझे तो इसी का जल्वा 'मीर' पड़ी जहान में जा कर नज़र जहाँ मेरी
دیا دکھائی مجھے تو اسی کا جلوہ میرؔ پڑی جہان میں جا کر نظر جہاں میری
اگر مجھے تمہارا جلوہ دکھائی دیتا، اے میر، تو میں مسحور ہو جاتا، کیونکہ اس دنیا میں میری نظر کو اپنا ٹھکانہ مل گیا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.