غزل
रही न-गुफ़्ता मिरे दिल में दास्ताँ मेरी
रही न-गुफ़्ता मिरे दिल में दास्ताँ मेरी
میرے دل میں ایک نہ کہی کہانی ہے، جسے کسی نے سمجھا نہیں۔ میں تجھ سے دور ہوں، مگر میری آہوں کا کارواں تجھے خبر نہیں۔ میں وہ نقشِ پے ہوں جو راہ میں مٹ گیا، اور میری کوئی سواد نہیں۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
रही न-गुफ़्ता मिरे दिल में दास्ताँ मेरी
न उस दयार में समझा कोई ज़बाँ मेरी
میرے دل کی کہانی ابھی تک کہی نہیں گئی، اور اس دنیا میں میری کوئی زبان سمجھ نہیں پائی۔
2
ब-रंग-ए-सौत-ए-जरस तुझ से दूर हूँ तन्हा
ख़बर नहीं है तुझे आह कारवाँ मेरी
اے زرّس، تیرے رنگِ آواز کے ساتھ، میں تجھ سے دور اور تنہا ہوں۔ تجھے میری آہ کاروان کا کوئی علم نہیں۔
3
तिरे न आज के आने में सुब्ह के मुझ पास
हज़ार जाए गई तब-ए-बद-गुमाँ मेरी
تیرے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاس، ہزار جائے گئی تَبِعِ بَدگُماں میری۔ اس کا سادہ अर्थ है कि نہ آج کے آنے سے اور نہ صبح کے قریب ہونے سے، میرے دل کے झूठे संदेह ने हज़ार (या बहुत अधिक) चीज़ें ख़र्च कर दी।
4
वो नक़्श-ए-पै हूँ मैं मिट गया हो जो रह में
न कुछ ख़बर है न सुध हैगी रह-रवाँ मेरी
میں تمہارے قدموں کا نقش ہوں؛ اگر میں راہ سے مٹ گیا ہوں، تو کوئی خبر نہیں ہے اور نہ میرا سفر کبھی بہتر ہوگا۔
5
शब उस के कूचे में जाता हूँ इस तवक़्क़ो' पर
कि एक दोस्त है वाँ ख़्वाब पासबाँ मेरी
میں اس لمحے اس محبوب کے گلیوں میں جاتا ہوں، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ وہاں ایک دوست میرے خوابوں کا نگہبان ہے۔
6
उसी से दूर रहा असल मुद्दआ' जो था
गई ये उम्र-ए-अज़ीज़ आह राएगाँ मेरी
اصل مدعا تو اسی سے دور رہنا تھا، جو تھا، وہ عمرِ عزیز گزر جائے گی؛ آہ، میری رگیں گزر جائیں گی۔
7
तिरे फ़िराक़ में जैसे ख़याल मुफ़्लिस का
गई है फ़िक्र-ए-परेशाँ कहाँ कहाँ मेरी
تیری فراق میں جیسے ایک مفلس کا خیال ہے، میری پریشان فکر کہاں کہاں میری گئی ہے۔
8
नहीं है ताब-ओ-तवाँ की जुदाई का अंदोह
कि ना-तवानी बहुत है मिज़ाज-दाँ मेरी
مجھے نشے کی حالت کی جدائی کا کوئی غم نہیں ہے، کیونکہ میرا مزاج پہلے ہی بہت مست ہے۔
9
रहा मैं दर-ए-पस-ए-दीवार-ए-बाग़ मुद्दत लेक
गई गुलों के न कानों तलक फ़ुग़ाँ मेरी
میں کافی دیر تک باغ کی دیوار کے دہانے پر کھڑا رہا، مگر میری آواز صرف پھولوں کے کانوں تک پہنچی۔
10
हुआ हूँ गिर्या-ए-ख़ूनीं का जब से दामन-गीर
न आस्तीन हुई पाक दोस्ताँ मेरी
جب سے میں گریۂ خونی کا دامنگیر ہوا، دوستوں میری آستین نہ پاک ہوئی ہے۔
11
दिया दिखाई मुझे तो इसी का जल्वा 'मीर'
पड़ी जहान में जा कर नज़र जहाँ मेरी
اگر مجھے تمہارا جلوہ دکھائی دیتا، اے میر، تو میں مسحور ہو جاتا، کیونکہ اس دنیا میں میری نظر کو اپنا ٹھکانہ مل گیا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
