غزل

हम हैं मजरूह माजरा है ये

हम हैं मजरूह माजरा है ये
میر تقی میر· Ghazal· 12 shers

یہ غزل محبت کے درد اور زندگی کے اتار چڑھاؤ کا بیان ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ مجروح ہے، مگر یہ حال بھی ایک طرح کا مزہ ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ عشق کی شروعات میں جو آگ تھی، وہ اب خاک ہو چکی ہے، مگر یہ انجام بھی ایک منظر ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
हम हैं मजरूह माजरा है ये वो नमक छिड़के है मज़ा है ये
ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ وہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ
ہم ہیں مجروح، مجرہ ہے یہ؛ / وہ نمک چھڑکیں، مزہ ہے یہ۔
2
आग थे इब्तिदा-ए-इश्क़ में हम अब जो हैं ख़ाक इंतिहा है ये
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ
इश्क़ کے آغاز میں ہم آگ تھے، اور جو اب خاک ہیں، یہ اس کا انجام ہے۔
3
बूद आदम नुमूद शबनम है एक दो दम में फिर हुआ है ये
بود آدم نمود شبنم ہے ایک دو دم میں پھر ہوا ہے یہ
بُود آدم نمُود شبنم ہے، ایک دو دم میں پھر ہوا ہے یہ۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ حالت آدم کے چہرے پر پڑی شبنم کی طرح ہے، جو پل بھر میں ہو جاتی ہے۔
4
शुक्र उस की जफ़ा का हो न सका दिल से अपने हमें गिला है ये
شکر اس کی جفا کا ہو نہ سکا دل سے اپنے ہمیں گلہ ہے یہ
شکر اس کی جفا کا ہو نہ سکا، مگر ہمیں اپنے دل سے یہ گلہ ہے۔
5
शोर से अपने हश्र है पर्दा यूँ नहीं जानता कि क्या है ये
شور سے اپنے حشر ہے پردہ یوں نہیں جانتا کہ کیا ہے یہ
شور سے اپنے حشر کا پردہ ہے، یوں نہیں جانتا کہ کیا ہے یہ۔
6
बस हुआ नाज़ हो चुका अग़माज़ हर घड़ी हम से क्या अदा है ये
بس ہوا ناز ہو چکا اغماض ہر گھڑی ہم سے کیا ادا ہے یہ
بس ہوا ناز ہو چکا اغمآز، ہر گھڑی ہم سے کیا ادا ہے یہ۔ اس کا لغوی مطلب ہے کہ میرا غرور یا ناز بہت زیادہ ہو چکا ہے، اور ہر لمحے آپ ہم سے کیا خوبصورتی یا ادا کا اظہار کرتی ہیں۔
7
नाशें उठती हैं आज यारों की आन बैठो तो ख़ुशनुमा है ये
نعشیں اٹھتی ہیں آج یاروں کی آن بیٹھو تو خوش نما ہے یہ
آج یاروں کے دلوں میں غم جاگتے ہیں، مگر جب تم بیٹھتے ہو تو سب کچھ خوشگوار ہو جاتا ہے۔
8
देख बे-दम मुझे लगा कहने है तो मुर्दा सा पर बला है ये
دیکھ بے دم مجھے لگا کہنے ہے تو مردہ سا پر بلا ہے یہ
اے بے دم، مجھے لگا کہنے سے یہ مردہ جیسا ہے، مگر یہ ایک بلا ہے۔
9
मैं तो चुप हूँ वो होंट चाटे है क्या कहूँ रीझने की जा है ये
میں تو چپ ہوں وہ ہونٹ چاٹے ہے کیا کہوں ریجھنے کی جا ہے یہ
میں تو خاموش ہوں، پر وہ ہونٹ چاٹ رہے ہیں؛ کیا کہوں، یہ تو دل بہلانے کا جال ہے۔
10
है रे बेगानगी कभू उन ने न कहा ये कि आश्ना है ये
ہے رے بے گانگی کبھو ان نے نہ کہا یہ کہ آشنا ہے یہ
شاعر کہہ رہا ہے کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ یہ صرف ایک وہم تھا۔
11
तेग़ पर हाथ दम-ब-दम कब तक इक लगा चक कि मुद्द'आ है ये
تیغ پر ہاتھ دم بہ دم کب تک اک لگا چک کہ مدعا ہے یہ
تگ پر ہاتھ دم بہ دم کب تک، اک لگا چک کہ مدعا ہے یہ۔ اس کا مطلب ہے کہ تلوار پر ہاتھ ہر پل تک کیوں رکھا جائے؛ یہ تو محض ایک عارضی اور بے کار التجا ہے۔
12
'मीर' को क्यूँ न मुग़्तनिम जाने अगले लोगों में इक रहा है ये
میرؔ کو کیوں نہ مغتنم جانے اگلے لوگوں میں اک رہا ہے یہ
اس کا لفظی مطلب ہے کہ مفتیمہ کو کیوں نہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ اگلے لوگوں میں موجود ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.