شور سے اپنے حشر ہے پردہ — میر تقی میر
شور سے اپنے حشر ہے پردہ
یوں نہیں جانتا کہ کیا ہے یہ
“The curtain of one's fate is from the noise, One does not know what this truly is.”
— میر تقی میر
معنی
شور سے اپنے حشر کا پردہ ہے، یوں نہیں جانتا کہ کیا ہے یہ۔
تشریح
یہ شعر زندگی کے شور اور افراتفری پر بات کرتا ہے۔ میر تقی میر کہتے ہیں کہ جب زندگی میں بہت زیادہ شور ہوتا ہے، تو یہ ہمارے حشر (نصیب) پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ انسان اتنا الجھ جاتا ہے کہ اسے یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
