Sukhan AI
غزل

कर नाला-कशी कब तईं औक़ात गुज़ारें

कर नाला-कशी कब तईं औक़ात गुज़ारें
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل پوچھتی ہے کہ یہ 'نالہ-کشی' کب تک گزرے گی، جو شدید جذباتی تھکاوٹ اور مایوسی کا اظہار ہے۔ شاعر سوال کرتے ہیں کہ شکایت کس سے اور کہاں کی جائے، کیونکہ ہر چیز کا بگڑنا اب ایک عام بات ہو چکی ہے۔ یہ غزل زندگی کی विدباؤن اور جذباتی تھکاوٹ کو بیان کرتی ہے، جہاں غم کا بہاؤ آنکھوں سے بہنا اور دنیا کے ظلم کا احساس ہونا معمول بن چکا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
कर नाला-कशी कब तईं औक़ात गुज़ारें फ़रियाद करें किस से कहाँ जा के पुकारें
کب نالہ کشی کا وقت ملے گا، اور ہم اپنا وقت کہاں گزاریں گے؟ کس سے فریاد کریں، اور کہاں جا کے پکاریں گے۔
2
हर-दम का बिगड़ना तो कुछ अब छूटा है इन से शायद किसी नाकाम का भी काम सँवारें
ہر دم کا بگڑنا تو کچھ اب چھوٹا ہے ان سے؛ شاید کسی ناکام کا بھی کام سنواریں۔
3
दिल में जो कभू जोश-ए-ग़म उठता है तो ता-देर आँखों से चली जाती हैं दरिया की सी धारें
جب دل میں کبھی غم کا جوش اٹھتا ہے تو تھوڑی دیر آنکھوں سے دریا کی سی دھاریں بہنے لگتی ہیں۔
5
जिस जा कि ख़स-ओ-ख़ार के अब ढेर लगे हैं याँ हम ने उन्हें आँखों से देखें हैं बहारें
جس جگہ پر خُس و خَار کے ڈھیر لگے ہیں، ہم نے وہاں پھولوں کی بہاریں اپنی آنکھوں سے دیکھیں ہیں۔
6
क्यूँकर के रहे शर्म मिरी शहर में जब आह नामूस कहाँ उतरें जो दरिया पे इज़ारें
میرے شہر میں جب آہیں شرم محسوس کرتی ہیں، تو یہ کیسا رویہ ہے، جبکہ ناموس تو دریا کے کنارے بھی اتر نہیں سکتا۔
7
वे होंट कि है शोर-ए-मसीहाई का जिन की दम लेवें न दो-चार को ता जी से न मारें
جن کے ہونٹ مصیاحی کے جھوٹے شور سے بھرے ہیں، وہ نہ تو چند کی جان لیتے ہیں اور نہ ہی مارتے ہیں۔
8
मंज़ूर है कब से सर-ए-शोरीदा का देना चढ़ जाए नज़र कोई तो ये बोझ उतारें
کب سے یہ جائز ہے کہ سرِ شوری دا کو دینا۔ اگر کسی کی نظر پڑ جائے، تو یہ بوجھ اتاریں۔
9
बालीं पे सर इक 'उम्र से है दस्त-ए-तलब का जो है सो गदा किस कने जा हाथ पसारें
بالیं پہ سر اک عمر سے ہے دستِ طلب کا، جو ہے سو گدا کس کنے جا ہاتھ پسان۔ اس کا سادہ शाब्दिक अर्थ है कि जन्म से ही एक लालच या चाहत का हाथ है, और जो चीज़ अपनी है, उसे माँगने के लिए किस کے پاس ہاتھ پھیلایا جائے۔
10
उन लोगों के तो गर्द न फिर सब हैं लिबासी सौ गज़ भी जो ये फाड़ें तो इक गज़ भी न वारें
ان لوگوں کے لیے تو دھول کا ذرہ بھی لباس ہے، اور اگر وہ سو گز بھی پھاڑ دیں تو ایک گز کو بھی نقصان نہیں ہوگا۔
11
नाचार हो रुख़्सत जो मँगा भेजी तो बोला मैं क्या करूँ जो 'मीर'-जी जाते हैं सुधारें
اگر میں تمہاری رخصت مانگوں تو تم نے کہا، 'میں کیا کروں، میر جی، مجھے سدھارنا ہے۔'
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

कर नाला-कशी कब तईं औक़ात गुज़ारें | Sukhan AI