क्या ज़ुल्म है उस ख़ूनी-ए-आलम की गली में
जब हम गए दो-चार नई देखें मज़ारें
“What injustice is in the street of that killer of the world, When we went and saw a few new graves?”
— میر تقی میر
معنی
کیا ظلم ہے اس خونِ عالم کی گلی میں، جب ہم گئے دو چار نئی دیکھیں مزاریں؟
تشریح
یہ شعر مر تقی میر کا ایک گہرا فلسفیانہ اظہار ہے۔ شاعر پوچھ رہے ہیں کہ اس دنیا کی گلیوں میں کیا ظلم ہے، جب ہمارا ہر قدم ہمیں نئی قبروں سے ملتا ہے؟ یہ صرف موت کا ذکر نہیں، بلکہ وقت کے گزرنے اور زندگی کی بے ثباتی کا احساس ہے۔
