हर-दम का बिगड़ना तो कुछ अब छूटा है इन से
शायद किसी नाकाम का भी काम सँवारें
“The continuous deteriorating state has somehow departed from them; perhaps even the work of some failure will manage to restore it.”
— میر تقی میر
معنی
ہر دم کا بگڑنا تو کچھ اب چھوٹا ہے ان سے؛ شاید کسی ناکام کا بھی کام سنواریں۔
تشریح
یہ شعر رقت اور امید کا امتزاج ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ زندگی کا مسلسل بکھرنا، مسلسل ٹوٹنا، اب ان سے دور ہو گیا ہے۔ اور یہ ایک گہری امید ہے کہ شاید کسی ناکام شخص کی کوششوں میں بھی کوئی طرح کی کامیابی مل جائے۔
