غزل
मैं कौन हूँ ऐ हम-नफ़साँ सोख़्ता-जाँ हूँ
मैं कौन हूँ ऐ हम-नफ़साँ सोख़्ता-जाँ हूँ
یہ غزل ایک گہرے داخلی سفر اور خود شناسی کا کلام ہے، جہاں شاعر اپنی ذات کی پیچیدگی اور گہرائی کو بیان کرتا ہے۔ وہ اپنے دل میں جلتی آگ اور ایک ایسے شوق کا ذکر کرتا ہے جو اسے پردے سے باہر لاتا ہے۔ شاعر اپنی کثیر جہتی فطرت کو ندی کی لہر اور سورج کی شعاع سے تشبیہ دے کر اپنی موجودگی کا اظہار کرتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
मैं कौन हूँ ऐ हम-नफ़साँ सोख़्ता-जाँ हूँ
इक आग मिरे दिल में है जो शो'ला-फ़िशाँ हूँ
میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں
اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں
میں کون ہوں اے ہم-نفساں سوکھتا-جان ہوں۔ اک آگ میرے دل میں ہے جو شعلہ-فِشاں ہوں۔ (یعنی: میں کون ہوں؟ میں ایک خود جلنے والی روح ہوں، میرے دل میں ایک ایسی آگ ہے جو ہمیشہ چمکتی رہے گی۔)
2
लाया है मिरा शौक़ मुझे पर्दे से बाहर
मैं वर्ना वही ख़ल्वती-ए-राज़-ए-निहाँ हूँ
لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر
میں ورنہ وہی خلوتیٔ راز نہاں ہوں
میرے شوق نے مجھے پردے سے باہر لا دیا ہے؛ ورنہ میں تو ابھی بھی خلوتِ رازِ نِہاں میں ہوں۔
3
जल्वा है मुझी से लब-ए-दरिय-ए-सुख़न पर
सद-रंग मिरी मौज है मैं तब-ए-रवाँ हूँ
جلوہ ہے مجھی سے لب دریاے سخن پر
صد رنگ مری موج ہے میں طبع رواں ہوں
मुझमें एक ऐसा جلوہ ہے جو شاعری کے سمندر کے ہونٹوں پر نظر آ رہا ہے۔ میری لہر میں سو رنگ ہیں، کیونکہ میں ہمیشہ بہنے والی دھار ہوں۔
4
पंजा है मिरा पंजा-ए-ख़ुर्शीद मैं हर सुब्ह
मैं शाना-सिफ़त साया-ए-रू ज़ुल्फ़-ए-बुताँ हूँ
پنجہ ہے مرا پنجۂ خورشید میں ہر صبح
میں شانہ صفت سایۂ رو زلف بتاں ہوں
میرا پنجہ ہر صبح سورج کے پنجے جیسا ہے، اور میں جنگل کے بالوں جیسا تمہارے چہرے کا شاندار سایہ ہوں۔
5
देखा है मुझे जिन ने सो दीवाना है मेरा
मैं बाइ'स-ए-आशुफ़्तगी-ए-तब-ए-जहाँ हूँ
دیکھا ہے مجھے جن نے سو دیوانہ ہے میرا
میں باعث آشفتگیٔ طبع جہال ہوں
جنہوں نے مجھے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ میں کتنا دیوانہ ہوں؛ میں دنیا کی محبت کے نشے کا عاشق ہوں۔
6
तकलीफ़ न कर आह मुझे जुम्बिश-ए-लब की
मैं सद सुख़न-आग़ुश्ता-ब-ख़ूँ ज़ेर-ए-ज़बाँ हूँ
تکلیف نہ کر آہ مجھے جنبش لب کی
میں صد سخن آغشتہ بہ خوں زیر زباں ہوں
تکلیف نہ کر آہ مجھے جنبشِ لب کی، میں صد سُخن آغوشتا ب خूँ زیرِ زبان ہوں ۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ میرے ہونٹوں کی ہلکی سی حرکت سے مجھے اذیت न दें, کیونکہ میں اپنی زبان کے نیچے मीठे शब्दों का एक खज़ाना हूँ।
7
हूँ ज़र्द ग़म-ए-ताज़ा-निहालान-ए-चमन से
उस बाग़-ए-ख़िज़ाँ-दीदा में मैं बर्ग-ए-ख़िज़ाँ हूँ
ہوں زرد غم تازہ نہالان چمن سے
اس باغ خزاں دیدہ میں میں برگ خزاں ہوں
میں زرد غمِ تازہ نیہالاںِ چمن سے، اس باغِ خزاں دیدہ میں برگِ خزاں ہوں۔
8
रखती है मुझे ख़्वाहिश-ए-दिल बस-कि परेशाँ
दरपय न हो इस वक़्त ख़ुदा जाने कहाँ हूँ
رکھتی ہے مجھے خواہش دل بسکہ پریشاں
درپئے نہ ہو اس وقت خدا جانے کہاں ہوں
میرے دل کی خواہش بس یہی ہے کہ تم پریشان نہ ہو، کیونکہ اس وقت میں کہاں ہوں، یہ تو خدا ہی جانتا ہے۔
9
इक वहम नहीं बेश मिरी हस्ती-ए-मौहूम
उस पर भी तिरी ख़ातिर-ए-नाज़ुक पे गराँ हूँ
اک وہم نہیں بیش مری ہستئ موہوم
اس پر بھی تری خاطر نازک پہ گراں ہوں
یہ صرف ایک وہم نہیں، بلکہ میری پوری ہستی ہے؛ میں آپ کی نازک خاطر پر بھی بوجھل ہوں۔
10
ख़ुश-बाशी-ओ-तंज़िया-ओ-तक़द्दुस थे मुझे 'मीर'
अस्बाब पड़े यूँ कि कई रोज़ से याँ हूँ
خوش باشی و تنزیہ و تقدس تھے مجھے میرؔ
اسباب پڑے یوں کہ کئی روز سے یاں ہوں
شاعر کہتا ہے کہ پہلے میں خوشباشی، تَنزیہ اور تقدس کی حالت میں تھا، لیکن حالات ایسے ہو گئے کہ میں کئی روز سے یہاں پڑا ہوں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
