غزل

मेरे संग-ए-मज़ार पर फ़रहाद

मेरे संग-ए-मज़ार पर फ़रहाद
میر تقی میر· Ghazal· 16 shers

یہ غزل فرہاد کے ذریعے ایک جذباتی اور گہرا تنقیدی اظہار پیش کرتی ہے۔ اس میں زندگی کے تعلق اور موت کے خوف پر سوال اٹھایا گیا ہے، جس میں شاعر کہتا ہے کہ زندگی کے بغیر موت سے کوئی جدائی نہیں ہے۔ یہ عشق، وجود اور فانی ہونے کے پیچیدہ رشتوں پر غور کرتی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
मेरे संग-ए-मज़ार पर फ़रहाद रख के तेशा कहे है या उस्ताद
میرے سنگ مزار پر فرہاد رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد
میرے سنگِ مزار پر فرہاد، کیا راز کہا ہے یا استاد؟
2
हम से बिन मर्ग क्या जुदा हो मलाल जान के साथ है दिल-ए-नाशाद
ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال جان کے ساتھ ہے دل ناشاد
مجھ سے بِن مرغ کیا جدا ہو ملال۔ جان کے ساتھ ہے دلِ نَشادہ۔
3
मूँद आँखें सफ़र अदम का कर बस है देखा न आलम-ए-ईजाद
موند آنکھیں سفر عدم کا کر بس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد
آنکھیں بند کر، ادم کے سفر پر؛ بس اتنا کافی ہے کہ نے کائناتِ ارتقاء کو دیکھ لیا۔
4
फ़िक्र-ए-ता'मीर' में न रह मुनइम ज़िंदगानी की कुछ भी है बुनियाद
فکر تعمیر میں نہ رہ منعم زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد
فکرِ تعمیر میں نہ رہ مُنعم، زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد۔
5
ख़ाक भी सर पे डालने को नहीं किस ख़राबे में हम हुए आबाद
خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں کس خرابے میں ہم ہوئے آباد
میرے سر پر تو دھول بھی نہیں ہے، کس خرابی میں ہم آباد ہو گئے؟
6
सुनते हो टुक सुनो कि फिर मुझ बाद न सुनोगे ये नाला ओ फ़रियाद
سنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد نہ سنو گے یہ نالہ و فریاد
سنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد ن سُن پاؤ گے یہ نالہ اے فریاد
7
लगती है कुछ सुमूम सी तो नसीम ख़ाक किस दिलजले की बर्बाद
لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم خاک کس دل جلے کی کی برباد
یہ نَسیم کچھ پھولوں کی خوشبو جیسا لگتا ہے، اور یہ پوچھتا ہے کہ کس جلتے ہوئے دل کی خاک برباد ہوئی ہے۔
8
भूला जाए है ग़म-ए-बुताँ में जी ग़रज़ आता है फिर ख़ुदा ही याद
بھولا جائے ہے غم بتاں میں جی غرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد
فراغت کے غم میں زندگی گزاری جاتی ہے، مگر جب ضرورت پڑتی ہے تو صرف خدا یاد آتا ہے۔
9
तेरे क़ैद-ए-क़फ़स का क्या शिकवा नाले अपने से अपने से फ़रियाद
تیرے قید قفس کا کیا شکوہ نالے اپنے سے اپنے سے فریاد
تیرے قیدے-قفس کا کیا شکوہ، نالے اپنے سے اپنے سے فریاد۔ اس کا سادہ অর্থ ہے کہ पिंजरे की कैद की शिकायत क्या करना, जब नदियाँ खुद से ही शिकायत कर रही हैं।
10
हर तरफ़ हैं असीर हम-आवाज़ बाग़ है घर तिरा तो ऐ सय्याद
ہر طرف ہیں اسیر ہم آواز باغ ہے گھر ترا تو اے صیاد
ہر طرف ہم آپ کی آواز کے قیدی ہیں، اے سییاد؛ آپ کا باغ ہی آپ کا گھر ہے۔
11
हम को मरना ये है कि कब हों कहीं अपनी क़ैद-ए-हयात से आज़ाद
ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیں اپنی قید حیات سے آزاد
ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیں اپنی قیدِ حیات سے آزاد
12
ऐसा वो शोख़ है कि उठते सुब्ह जाना सो जाए उस की है मो'ताद
ایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبح جانا سو جائے اس کی ہے معتاد
ایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبح، جانا سو جائے اُس کی ہے مٔتاد۔
13
नहीं सूरत-पज़ीर नक़्श उस का यूँ ही तस्दीक़ खींचे है बहज़ाद
نہیں صورت پذیر نقش اس کا یوں ہی تصدیق کھینچے ہے بہزاد
नहीं सूरत-पज़ीर का नक़्श है, जो यूँ ही तस्दीक़ खींचे है बहज़ाद۔
14
ख़ूब है ख़ाक से बुज़ुर्गों की चाहना तो मिरे तईं इमदाद
خوب ہے خاک سے بزرگوں کی چاہنا تو مرے تئیں امداد
بزرگوں کی چاہت مٹی سے بنا ایک تحفہ ہے۔
15
पर मुरव्वत कहाँ की है ऐ 'मीर' तू ही मुझ दिलजले को कर इरशाद
پر مروت کہاں کی ہے اے میرؔ تو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد
پر مُرّوّت کہاں کی ہے اے 'مِیر'، تُو ہی مُج دِلجلے کو کر اِرشاد۔ اس کا مطلب ہے کہ اے میر، تمہارا وہ معمول کا دلکش کمال کہاں گیا؟ صرف تم ہی اس جلتے ہوئے دل کو مہربانی دے سکتے ہو۔
16
ना-मुरादी हो जिस पे परवाना वो जलाता फिरे चराग़-ए-मुराद
نامرادی ہو جس پہ پروانہ وہ جلاتا پھرے چراغ مراد
جس پر نا-مردی ہو، وہ پروانہ/مومبتی کی طرح، مراد کے چراغ کو جلاتا پھرتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

मेरे संग-ए-मज़ार पर फ़रहाद | Sukhan AI