غزل

मशहूर चमन में तिरी गुल पैरहनी है

मशहूर चमन में तिरी गुल पैरहनी है
میر تقی میر· Ghazal· 10 shers

یہ غزل ایک محفل میں کسی خاص محبوب کے حسن اور اس کے دلکش وجود کی تعریف کرتی ہے۔ شاعر محبوب کے ہر अंग की प्रशंसा کرتا ہے، اور کہتا ہے کہ اس کا وجود ہی ایک منفرد چاہت ہے۔ یہ عشق کی گہرائی اور اس کے سبب پیدا ہونے والی جذباتی ہلچل کو بیان کرتی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
मशहूर चमन में तिरी गुल पैरहनी है क़ुर्बां तिरे हर उज़्व पे नाज़ुक-बदनी है
مشہور چمن میں تری گل پیرہنی ہے قرباں ترے ہر عضو پہ نازک بدنی ہے
مشہور چمن میں تیری گل پہرنی ہے، قُرباں تیرے ہر عُضو پہ نازک بدنی ہے۔
2
उर्यानी-ए-आशुफ़्ता कहाँ जाए पस-अज़-मर्ग कुश्ता है तिरा और यही बे-कफ़नी है
عریانیٔ آشفتہ کہاں جائے پس از مرگ کشتہ ہے ترا اور یہی بے کفنی ہے
عریانی-ए-آشُفتا کہاں جائے پس از مرگ؟ قُشتا ہے تیرا اور یہی بے کفنی ہے۔
3
समझे है न परवाना न थामे है ज़बाँ शम्अ' वो सोख़्तनी है तो ये गर्दन-ज़दनी है
سمجھے ہے نہ پروانہ نہ تھامے ہے زباں شمع وہ سوختنی ہے تو یہ گردن زدنی ہے
کیا آپ سمجھ گئے ہیں کہ پروانہ زبان کی شمع کو نہیں تھامے ہوئے ہے، اور اگر یہ سرگوشی ہے تو یہ گلا کاٹنے جیسی بات ہے۔
4
लेता ही निकलता है मिरा लख़्त-ए-जिगर अश्क आँसू नहीं गोया कि ये हीरे की कनी है
لیتا ہی نکلتا ہے مرا لخت جگر اشک آنسو نہیں گویا کہ یہ ہیرے کی کنی ہے
جیسے ہی یہ نکلتا ہے، میرے دل کا داغ آنسو نکل آتا ہے۔ یہ آنسو نہیں، بلکہ ہیرے کا ایک کن ہے۔
5
बुलबुल की कफ़-ए-ख़ाक भी अब होगी परेशाँ जामे का तिरे रंग सितमगर चिमनी है
بلبل کی کف خاک بھی اب ہوگی پریشاں جامے کا ترے رنگ ستم گر چمنی ہے
بلبل کی کفِ خاک بھی اب پریشان ہوگی، اور جامے کا تیرے رنگ ستمگر چمنی ہے۔
6
कुछ तो उभर ऐ सूरत-ए-शीरीं कि दिखाऊँ फ़रहाद के ज़िम्मे भी अजब कोह-कनी है
کچھ تو ابھر اے صورت شیریں کہ دکھاؤں فرہاد کے ذمے بھی عجب کوہ کنی ہے
ऐ प्यारे मुखड़े، کچھ تو چمک دکھاؤ کہ میں دکھا سکوں؛ / فرہاد کے زیمے بھی عجیب سی اونچی پہاڑی ہے۔
7
हों गर्म-ए-सफ़र शाम-ए-ग़रीबाँ से ख़ुशी हों ऐ सुब्ह-ए-वतन तू तो मुझे बे-वतनी है
ہوں گرم سفر شام غریباں سے خوشی ہوں اے صبح وطن تو تو مجھے بے وطنی ہے
سفر کی گرمی سے، پردیسی کی شام کو خوشی ملے؛ اے صبحِ وطن، تُو تو مجھے بے وطنی ہے۔
8
हर-चंद गदा हूँ मैं तिरे इश्क़ में लेकिन इन बुल-हवसों में कोई मुझ सा भी ग़नी है
ہر چند گدا ہوں میں ترے عشق میں لیکن ان بو الہوسوں میں کوئی مجھ سا بھی غنی ہے
میں تیرے عشق میں ہر-چند گدا ہوں، مگر ان بُلی-حَواसों میں مجھ جیسا کوئی بھی غنی نہیں۔
9
हर अश्क मिरा है दुर-ए-शहवार से बेहतर हर लख़्त-ए-जिगर रश्क-ए-अक़ीक़-ए-यमनी है
ہر اشک مرا ہے در شہوار سے بہتر ہر لخت جگر رشک عقیق یمنی ہے
میرا ہر اشک دور کے شہوار سے بہتر ہے، اور میرے جگر کا ہر لخت یمنی اقِيق کی حسد کا ہے۔
10
बिगड़ी है निपट 'मीर' तपिश और जिगर में शायद कि मिरे जी ही पर अब आन बनी है
بگڑی ہے نپٹ میرؔ تپش اور جگر میں شاید کہ مرے جی ہی پر اب آن بنی ہے
میر کہتا ہے کہ نہ صرف جسم کی گرمی بلکہ دل بھی خراب ہو چکا ہے، اور شاید اس کا اپنا وجود ہی اب بوجھ بن گیا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.