غزل

कोफ़्त से जान लब पे आई है

कोफ़्त से जान लब पे आई है
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل محبت میں ملنے والے زخموں اور زندگی کی پیچیدگیوں پر بات کرتی ہے۔ شاعر شکایت کرتا ہے کہ اس کے دل پر کیا چوٹ لگی ہے، اور کن خواہشات یا حالات نے اسے اس درد سے گزارا ہے۔ یہ غزل تقدیر کے ہاتھوں ملنے دکھوں اور دل کی نازکی کو بیان کرتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
कोफ़्त से जान लब पे आई है हम ने क्या चोट दिल पे खाई है
کوفت سے جان لب پہ آئی ہے ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے
کفن سے جان لب پہ آئی ہے، ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے۔
2
लिखते रुक़ा लिखे गए दफ़्तर शौक़ ने बात क्या बढ़ाई है
لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر شوق نے بات کیا بڑھائی ہے
وہ دفتَر جہاں میں لکھتے ہوئے رکا، اور وہ خط جو لکھے گئے، شوق نے بات میں کیا بڑھا دیا ہے۔
3
आरज़ू उस बुलंद ओ बाला की क्या बला मेरे सर पे लाई है
آرزو اس بلند و بالا کی کیا بلا میرے سر پہ لائی ہے
اس بلند و بالا کے کیا قصور ہیں، کہ میرے سر پر یہ آفت لے آیا ہے؟
4
दीदनी है शिकस्तगी दिल की क्या इमारत ग़मों ने ढाई है
دیدنی ہے شکستگی دل کی کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے
دیدنی ہے شکستگی دل کی، کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے؟ اس کا لغوی مطلب ہے: یہ دل کے ٹوٹنے کا زخم ہے، اور غموں نے ڈھائی (دو اور آدھا) کی کیا عمارت بنائی ہے۔
5
है तसन्नो कि लाल हैं वे लब यानी इक बात सी बनाई है
ہے تصنع کہ لعل ہیں وے لب یعنی اک بات سی بنائی ہے
کیا وہ ہونٹ بچے کے ہیں، یا وہ لال ہیں؟ / انہوں نے ایک بات یا ایک سطر بنائی ہے۔
6
दिल से नज़दीक और इतना दूर किस से उस को कुछ आश्नाई है
دل سے نزدیک اور اتنا دور کس سے اس کو کچھ آشنائی ہے
دل سے قریب اور اتنا دور، کس سے اس کو کوئی اطمینان مل سکتا ہے۔
7
बे-सुतूँ क्या है कोहकन कैसा इश्क़ की ज़ोर आज़माई है
بے ستوں کیا ہے کوہ کن کیسا عشق کی زور آزمائی ہے
بے سُتوں اور کوہکن کا کیا مطلب ہے، اور آج اس نے عشق کی طاقت کو کیسے آزمایا ہے۔
8
जिस मरज़ में कि जान जाती है दिलबरों ही की वो जुदाई है
جس مرض میں کہ جان جاتی ہے دلبروں ہی کی وہ جدائی ہے
جس مرض میں جان جاتی ہے، وہ محبوب سے جدائی ہے۔
9
याँ हुए ख़ाक से बराबर हम वाँ वही नाज़ ओ ख़ुद-नुमाई है
یاں ہوئے خاک سے برابر ہم واں وہی ناز و خود نمائی ہے
ہم خاک سے برابر نہیں، کیونکہ ہم میں وہ منفرد نज़ाकत اور خودنمائی موجود ہے۔
10
ऐसा मौता है ज़िंदा-ए-जावेद रफ़्ता-ए-यार था जब आई है
ایسا موتیٰ ہے زندۂ جاوید رفتۂ یار تھا جب آئی ہے
اسے کہتے ہیں کہ جیسے لازوال زندگی میں بھی ایک مردہ جسم جیسا محسوس ہوتا ہے، جب محبوب کا رستہ آ جاتا ہے۔
11
मर्ग-ए-मजनूँ से अक़्ल गुम है 'मीर' क्या दिवाने ने मौत पाई है
مرگ مجنوں سے عقل گم ہے میرؔ کیا دوانے نے موت پائی ہے
مَرجِ مَجنون سے عقل گم ہے 'میر'۔ کیا دیوانے نے موت پائی ہے؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.