غزل
ख़ातिर करे है जम' वो हर बार एक तरह
ख़ातिर करे है जम' वो हर बार एक तरह
یہ غزل بتاتی ہے کہ وہ ہر بار ایک ہی طرح کوشش کرتا ہے۔ وہ نئے دوستوں اور محبت کے لیے مجھ سے کوشش کرتا ہے، مگر یہ تمام گناہگار ایک طرح سے مارے گئے ہیں۔ آخر میں، شاعر کہتا ہے کہ چاہے سب کچھ مختلف طرح کا ہو، لیکن وہ بھی ایک طرح سے قید ہو گیا ہے۔
نغمہ سنیں
1
ख़ातिर करे है जम' वो हर बार एक तरह
करता है चर्ख़ मुझ से नए यार एक तरह
خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح
کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح
خاطر کرے ہے جم وہ ہر بار ایک طرح، کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح۔
2
मैं और क़ैस ओ कोहकन अब जो ज़बाँ पे हैं
मारे गए हैं सब ये गुनहगार एक तरह
میں اور قیس و کوہ کن اب جو زباں پہ ہیں
مارے گئے ہیں سب یہ گنہ گار ایک طرح
میں اور قیس او کوہکن جو اب زبان پر ہیں، مارے گئے ہیں سب یہ گنہگار ایک طرح۔
3
मंज़ूर उस को पर्दे में हैं बे-हिजाबियाँ
किस से हुआ दो-चार वो 'अय्यार एक तरह
منظور اس کو پردے میں ہیں بے حجابیاں
کس سے ہوا دو چار وہ عیار ایک طرح
کس سے ہوا دوچار وہ، اے ایار ایک طرح؟ (یعنی: پردے میں بے حجابی عورتوں کا ہونا کس کو منظور ہے؟)
4
सब तरहें उस की अपनी नज़र में थीं क्या कहें
पर हम भी हो गए हैं गिरफ़्तार एक तरह
سب طرحیں اس کی اپنی نظر میں تھیں کیا کہیں
پر ہم بھی ہو گئے ہیں گرفتار ایک طرح
اس کا لفظی مطلب ہے کہ وہ ہر طرح سے اپنی نظروں میں تھی، کیا کہیں؟ پر ہم بھی ایک طرح سے گرفتار ہو گئے ہیں۔
5
घर उस के जा के आते हैं पामाल हो के हम
करिए मकाँ ही अब सर-ए-बाज़ार एक तरह
گھر اس کے جا کے آتے ہیں پامال ہو کے ہم
کریے مکاں ہی اب سر بازار ایک طرح
ہم اس کے گھر سے ایسے آتے ہیں جیسے نشے میں ہوں؛ اب ہم بازار میں ہی ایک طرح سے گھر بنا لیں گے۔
6
गह गुल है गाह रंग गहे बाग़ की है बू
आता नहीं नज़र वो तरह-दार एक तरह
گہ گل ہے گاہ رنگ گہے باغ کی ہے بو
آتا نہیں نظر وہ طرح دار ایک طرح
گہ گل ہے گاہ رنگ گہ باغ کی ہے بو، یعنی باغ کے پھول اور رنگ بہت خوبصورت ہیں اور اس کی خوشبو بھی دلکش ہے، مگر محبوب کا دیدار پہلے جیسا نہیں رہا۔
7
नैरंग हुस्न-ए-दोस्त से कर आँखें आश्ना
मुमकिन नहीं वगरना हो दीदार एक तरह
نیرنگ حسن دوست سے کر آنکھیں آشنا
ممکن نہیں وگرنہ ہو دیدار ایک طرح
دوست کی حُسن سے میری آنکھیں آشنا ہو گئی ہیں، ممکن نہیں رہنا بغیر ایک نظر۔
8
सौ तरह तरह देख तबीबों ने ये कहा
सेहत पज़ीर हुए ये बीमार एक तरह
سو طرح طرح دیکھ طبیبوں نے یہ کہا
صحت پذیر ہوئے یہ بیمار ایک طرح
سُو طرح طرح دیکھ طبیبوں نے یہ کہا، صحت پज़ीर ہوئے یہ بیمار ایک طرح۔
9
सो भी हज़ार तरह से ठहरवाते हैं हम
तस्कीन के लिए तिरी नाचार एक तरह
سو بھی ہزار طرح سے ٹھہراوتے ہیں ہم
تسکین کے لیے تری ناچار ایک طرح
ہم آپ کو ہزار طرح سے ٹھہراتے ہیں، مگر تسکین کے لیے آپ کی نادانی بس ایک طرح ہے۔
10
बिन जी दिए हो कोई तरह फ़ाएदा नहीं
गर है तो ये है ऐ जिगर अफ़गार एक तरह
بن جی دئیے ہو کوئی طرح فائدہ نہیں
گر ہے تو یہ ہے اے جگر افگار ایک طرح
بغیر کچھ دیے، کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اگر تم یہاں ہو، اے جگر، تو ایک طرح سے پریشان ہو۔
11
हर तरह तू ज़लील ही रखता है 'मीर' को
होता है 'आशिक़ी में कोई ख़्वार एक तरह
ہر طرح تو ذلیل ہی رکھتا ہے میرؔ کو
ہوتا ہے عاشقی میں کوئی خوار ایک طرح
ہر طرح تو ذلیل ہی رکھتا ہے 'میر' کو، کیونکہ عشق میں ہر طرح کی ذلت ہوتی ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
