Sukhan AI
غزل

ख़ातिर करे है जम' वो हर बार एक तरह

ख़ातिर करे है जम' वो हर बार एक तरह
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ وہ ہر بار ایک ہی طرح کوشش کرتا ہے۔ وہ نئے دوستوں اور محبت کے لیے مجھ سے کوشش کرتا ہے، مگر یہ تمام گناہگار ایک طرح سے مارے گئے ہیں۔ آخر میں، شاعر کہتا ہے کہ چاہے سب کچھ مختلف طرح کا ہو، لیکن وہ بھی ایک طرح سے قید ہو گیا ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ख़ातिर करे है जम' वो हर बार एक तरह करता है चर्ख़ मुझ से नए यार एक तरह
خاطر کرے ہے جم وہ ہر بار ایک طرح، کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح۔
2
मैं और क़ैस कोहकन अब जो ज़बाँ पे हैं मारे गए हैं सब ये गुनहगार एक तरह
میں اور قیس او کوہکن جو اب زبان پر ہیں، مارے گئے ہیں سب یہ گنہگار ایک طرح۔
3
मंज़ूर उस को पर्दे में हैं बे-हिजाबियाँ किस से हुआ दो-चार वो 'अय्यार एक तरह
کس سے ہوا دوچار وہ، اے ایار ایک طرح؟ (یعنی: پردے میں بے حجابی عورتوں کا ہونا کس کو منظور ہے؟)
4
सब तरहें उस की अपनी नज़र में थीं क्या कहें पर हम भी हो गए हैं गिरफ़्तार एक तरह
اس کا لفظی مطلب ہے کہ وہ ہر طرح سے اپنی نظروں میں تھی، کیا کہیں؟ پر ہم بھی ایک طرح سے گرفتار ہو گئے ہیں۔
5
घर उस के जा के आते हैं पामाल हो के हम करिए मकाँ ही अब सर-ए-बाज़ार एक तरह
ہم اس کے گھر سے ایسے آتے ہیں جیسے نشے میں ہوں؛ اب ہم بازار میں ہی ایک طرح سے گھر بنا لیں گے۔
6
गह गुल है गाह रंग गहे बाग़ की है बू आता नहीं नज़र वो तरह-दार एक तरह
گہ گل ہے گاہ رنگ گہ باغ کی ہے بو، یعنی باغ کے پھول اور رنگ بہت خوبصورت ہیں اور اس کی خوشبو بھی دلکش ہے، مگر محبوب کا دیدار پہلے جیسا نہیں رہا۔
7
नैरंग हुस्न-ए-दोस्त से कर आँखें आश्ना मुमकिन नहीं वगरना हो दीदार एक तरह
دوست کی حُسن سے میری آنکھیں آشنا ہو گئی ہیں، ممکن نہیں رہنا بغیر ایک نظر۔
8
सौ तरह तरह देख तबीबों ने ये कहा सेहत पज़ीर हुए ये बीमार एक तरह
سُو طرح طرح دیکھ طبیبوں نے یہ کہا، صحت پज़ीर ہوئے یہ بیمار ایک طرح۔
9
सो भी हज़ार तरह से ठहरवाते हैं हम तस्कीन के लिए तिरी नाचार एक तरह
ہم آپ کو ہزار طرح سے ٹھہراتے ہیں، مگر تسکین کے لیے آپ کی نادانی بس ایک طرح ہے۔
10
बिन जी दिए हो कोई तरह फ़ाएदा नहीं गर है तो ये है जिगर अफ़गार एक तरह
بغیر کچھ دیے، کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اگر تم یہاں ہو، اے جگر، تو ایک طرح سے پریشان ہو۔
11
हर तरह तू ज़लील ही रखता है 'मीर' को होता है 'आशिक़ी में कोई ख़्वार एक तरह
ہر طرح تو ذلیل ہی رکھتا ہے 'میر' کو، کیونکہ عشق میں ہر طرح کی ذلت ہوتی ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.