غزل

जिस सर को ग़ुरूर आज है याँ ताज-वरी का

जिस सर को ग़ुरूर आज है याँ ताज-वरी का
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل غرور اور تکبر کی عارضی نوعیت پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ جس سر پر آج فخر یا تاج کا سجا ہے، کل اس پر غم اور نوحہ کا شور ہوگا। یہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ زندگی کے ہر سفر میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
जिस सर को ग़ुरूर आज है याँ ताज-वरी का कल उस पे यहीं शोर है फिर नौहागरी का
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
جس سر پر آج فخر یا تاج پہنے کا غرور ہے، کل اسی جگہ پھر نوحہگاری کا شور ہوگا۔
2
शर्मिंदा तिरे रुख़ से है रुख़्सार परी का चलता नहीं कुछ आगे तिरे कब्क-ए-दरी का
شرمندہ ترے رخ سے ہے رخسار پری کا چلتا نہیں کچھ آگے ترے کبک دری کا
تیری رخ سے پری کا رخسار شرمانا ہے، اور تیرے کُبک-ے دری سے کچھ نہیں چلتا۔
3
आफ़ाक़ की मंज़िल से गया कौन सलामत अस्बाब लुटा राह में याँ हर सफ़री का
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
آفاق کی منزل سے کون سلامت جاتا ہے؟ چاہے وہ راستے میں بکھرے حالات ہوں، یا ہر مسافری کا حال۔
4
ज़िंदाँ में भी शोरिश न गई अपने जुनूँ की अब संग मुदावा है इस आशुफ़्ता-सरी का
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
زنداں میں بھی اپنے جنوں کی شوہرش نہ گئی؛ اب اس آشفتہ دل کا مُدعا ساتھ ہے۔
5
हर ज़ख़्म-ए-जिगर दावर-ए-महशर से हमारा इंसाफ़-तलब है तिरी बेदाद-गरी का
ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا
ہر زخمِ جگر داورِ محشر سے ہمارا انصاف طلب ہے تیری بےدادی کا
6
अपनी तो जहाँ आँख लड़ी फिर वहीं देखो आईने को लपका है परेशाँ-नज़री का
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھ، آئینے کو لپکا ہے پریشان-نظری کا
7
सद मौसम-ए-गुल हम को तह-ए-बाल ही गुज़रे मक़्दूर न देखा कभू बे-बाल-ओ-परी का
صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گزرے مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا
سد موسمِ گل ہم کو تہہِ بال ہی گزرے مقدر نہ دیکھا کبھی بے بال و پری کا
8
इस रंग से झमके है पलक पर कि कहे तू टुकड़ा है मिरा अश्क अक़ीक़-ए-जिगरी का
اس رنگ سے جھمکے ہے پلک پر کہ کہے تو ٹکڑا ہے مرا اشک عقیق جگری کا
بتا کہ میری پلک پر یہ چمک کس رنگ سے جھلملاتی ہے؛ کیا میرا آنسو میرے سب سے پیارے دل کے ایک ٹکڑے ہے۔
9
कल सैर किया हम ने समुंदर को भी जा कर था दस्त-ए-निगर पंजा-ए-मिज़्गाँ की तरी का
کل سیر کیا ہم نے سمندر کو بھی جا کر تھا دست نگر پنجۂ مژگاں کی تری کا
کل سیر کیا ہم نے سمندر کو بھی جا کر، / تھا دستِ نگار پنجۂ مِزغان کی طری کا۔
10
ले साँस भी आहिस्ता कि नाज़ुक है बहुत काम आफ़ाक़ की इस कारगह-ए-शीशागरी का
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
ساںس بھی آہستہ لے، کہ آفاق کی اس کارگہِ شِیشاگری کا
11
टुक 'मीर'-ए-जिगर-सोख़्ता की जल्द ख़बर ले क्या यार भरोसा है चराग़-ए-सहरी का
ٹک میرؔ جگر سوختہ کی جلد خبر لے کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا
تُک 'میر'-ے-جگر-سوخٹا، میری جلد خبر لا، کیا یار صبح کی چادر کے چراغ پر بھروسہ ہے؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.