غزل
होती है गरचे कहने से यारो पराई बात
होती है गरचे कहने से यारो पराई बात
یہ غزل اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ کچھ باتیں کہہ دینے سے ہو جاتی ہیں، مگر دل کے راز اور جو باتیں اندر چھپی رہتی ہیں، وہ بیان کرنا یا یاد رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ شاعر کے اشعار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کسی کے دل کی گہرائیوں کو समझना आसान नहीं होता، چاہے وہ ظاہری طور پر کچھ بھی کہہ رہے ہوں۔ یہ محبت، ہجر اور دل کے پوشیدہ احساسات کی پیچیدگیوں پر ایک خوبصورت اظہار ہے۔
نغمہ سنیں
1
होती है गरचे कहने से यारो पराई बात
पर हम से तो थंबे न कभू मुँह पर आई बात
ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات
پر ہم سے تو تھنبے نہ کبھو منہ پر آئی بات
یاروں، چاہے بات کسی اور کی ہو یا کہیں اور سے، مگر ہمارے سامنے تو کبھی بھی ایسی بات نہیں آئی۔
2
जाने न तुझ को जो ये तसन्नो तू उस से कर
तिस पर भी तो छुपी नहीं रहती बनाई बात
جانے نہ تجھ کو جو یہ تصنع تو اس سے کر
تس پر بھی تو چھپی نہیں رہتی بنائی بات
شاعر کہتا ہے کہ اگر میں تجھے یہ تظاہرہ نہیں دکھا سکتا، تو تجھے اس سے دکھا دینا چاہیے؛ کیونکہ وہاں بھی جو بات چھپی ہے، وہ چھپی نہیں رہ سکتی۔
3
लग कर तदर्रो रह गए दीवार-ए-बाग़ से
रफ़्तार की जो तेरी सबा ने चलाई बात
لگ کر تدرو رہ گئے دیوار باغ سے
رفتار کی جو تیری صبا نے چلائی بات
دیوارِ باغ سے لگ کر میں ٹھہر گیا، جب تیری شبنم نے رَفتار کی بات شروع کی۔
4
कहते थे उस से मिलिए तो क्या क्या न कहिए लेक
वो आ गया तो सामने उस के न आई बात
کہتے تھے اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے لیک
وہ آ گیا تو سامنے اس کے نہ آئی بات
کہتے تھے اُس سے ملیں تو کیا کیا نہ کہیے، پر وہ آ گیا تو اُس کے نہ آئی بات۔
5
अब तो हुए हैं हम भी तिरे ढब से आश्ना
वाँ तू ने कुछ कहा कि इधर हम ने पाई बात
اب تو ہوئے ہیں ہم بھی ترے ڈھب سے آشنا
واں تو نے کچھ کہا کہ ادھر ہم نے پائی بات
اب تو ہم بھی تیرے حسن سے آشنا ہیں، واں تو نے کچھ کہا کہ ادھر ہم نے پائی بات۔
6
बुलबुल के बोलने में सब अंदाज़ हैं मिरे
पोशीदा कब रहे है किसू की उड़ाई बात
بلبل کے بولنے میں سب انداز ہیں مرے
پوشیدہ کب رہے ہے کسو کی اڑائی بات
بلبل کے گانے میں میرے کئی انداز ہیں؛ معلوم نہیں کب کون سی بات اڑ گئی۔
7
भड़का था रात देख के वो शो'ला-ख़ू मुझे
कुछ रू-सियह रक़ीब ने शायद लगाई बात
بھڑکا تھا رات دیکھ کے وہ شعلہ خو مجھے
کچھ رو سیہ رقیب نے شاید لگائی بات
رات کو دیکھ کر وہ شعلہ خُو مجھ میں بھڑکا تھا؛ شاید کسی رقیب نے بات کہہ دی۔
8
आलम सियाह-ख़ाना है किस का कि रोज़-ओ-शब
ये शोर है कि देती नहीं कुछ सुनाई बात
عالم سیاہ خانہ ہے کس کا کہ روز و شب
یہ شور ہے کہ دیتی نہیں کچھ سنائی بات
یہ سیاہ جہاں کس کا ہے کہ روز و شب، یہ شور ہے کہ کوئی بات سنائی نہیں دیتی۔
9
इक दिन कहा था ये कि ख़मोशी में है वक़ार
सो मुझ से ही सुख़न नहीं मैं जो बताई बात
اک دن کہا تھا یہ کہ خموشی میں ہے وقار
سو مجھ سے ہی سخن نہیں میں جو بتائی بات
ایک دن تم نے کہا تھا کہ خاموشی میں وقار ہے، لہٰذا مجھ سے کوئی بات نہ کرنا، کیونکہ میں نے اپنی بات پہلے ہی کہہ دی ہے۔
10
अब मुझ ज़ईफ़-ओ-ज़ार को मत कुछ कहा करो
जाती नहीं है मुझ से किसू की उठाई बात
اب مجھ ضعیف و زار کو مت کچھ کہا کرو
جاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات
اب مجھ زعیف و زار کو مت کچھ کہا کرو، جاتی نہیں ہے مجھ سے کسی کی اٹھائی بات۔
11
ख़त लिखते लिखते 'मीर' ने दफ़्तर किए रवाँ
इफ़रात-ए-इश्तियाक़ ने आख़िर बढ़ाई बात
خط لکھتے لکھتے میرؔ نے دفتر کیے رواں
افراط اشتیاق نے آخر بڑھائی بات
خط لکھتے لکھتے 'میر' کے دفتَر میں رواں ہو گیا۔ افراطِ اشتیاق نے آخر بات بڑھا دی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
